Wednesday , September 30 2020

اپنے آپ کو رام بھکت ثابت کرنے کی کوششوں میں لگی کانگریس، سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کو دیا بھگوان رام مندر کا کریڈٹ

New Delhi: Congress President Rahul Gandhi accompanied by party leaders Randeep Surjewala and K. C. Venugopal addresses a press conference, in New Delhi, on March 25, 2019. (Photo: IANS)

اپنے آپ کو رام بھکت ثابت کرنے کی کوششوں میں لگی کانگریس، سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کو دیا بھگوان رام مندر کا کریڈٹ

ملک کی سب قدیم سیاسی پارٹی کانگریس اپنے رام مندر کے موقف پر اصلاح کرتے نظر آرہی ہے اور اپنے آپ کو رام بھگت ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے، وزیراعظم مودی کے ذریعہ بھومی پوجن پر کانگریس کی کوشش ہے کہ وہ بھی کسی طرح رام بھکت نظر آسکے، پارٹی کی جنرل سیکرٹری پرینکا گاندھی سے لے کر سابق وزیر اعلیٰ مدھیہ پردیش کمل ناتھ اور منیش تیواری تک سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو مندر کا کریڈٹ دینے میں مصروف ہیں، ان کا ماننا ہے کہ راجیو گاندھی نے 1985 میں مندر کا تالا کھلوا کر اسکی شروعات کی تھی، اور 1989 میں انہوں نے ہی مندر کی سنگ بنیاد رکھی تھی، اور راجیو جی کی وجہ سے ہی آج مندر کا خواب پورا ہوا ہے۔

حالانکہ، کانگریس کے لئے اپنے موقف اور نظریہ سے واپس ہٹنا اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ نیوز 18 میں معروف مصنف اور سیاسی تجزیہ کار رشید قدوائی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ”ایودھیا کے مسئلہ پر سالوں تک راجیو گاندھی، نرسمہا راو، سیتا رام کیسری اور سونیا گاندھی کی قیادت میں کانگریس خاموش تماشائی بنی رہی۔ رام مندر کے مسئلہ پر پارٹی نے اپنے سبھی سیاسی قراردادوں کو مسلسل یہی دہرایا کہ وہ عدالت کے فیصلے پر عمل کرے گی اور پر امن طریقے سے اس مسئلہ کے حل کے حق میں ہے۔ لیکن ان کی اس دلیل پر اقلیتی طبقہ کے علاوہ کسی اور نے کوئی توجہ نہیں دی۔

مضمون میں لکھا گیا ہے کہ ”راہل گاندھی دسمبر 2017 سے لے کر مئی 2019 تک کانگریس کے صدر رہے۔ لیکن اس مسئلہ پر وہ اپنے والد کے موقف پر چل نہیں پائے۔ سال 1989 میں راجیو گاندھی نے وزیر اعظم رہتے ہوئے ’ رام راجیہ‘ کا وعدہ کر کے ایودھیا میں سریو ندی کے کنارے سے اپنی پارلیمانی انتخابات کی مہم کا آغاز کیا تھا۔ راجیو گاندھی اور ان کے وزیر داخلہ رہے بوٹا سنگھ نے وہاں شلانیاس بھی کیا تھا۔ حالانکہ راجیو گاندھی کے اس فیصلے کی کافی تنقید ہوئی تھی۔ بی جے پی اور وشو ہندو پریشد نے اسے ووٹ لینے کی سیاست قرار دیا تھا۔ جبکہ میڈیا، لبرلس، سماج وادی اور بی جے پی کے نظریہ کی مخالفت کرنے والی پارٹیوں نے اور دوسرے طبقوں نے اسے ہندو کارڈ کھیلنے کی کوشش بتایا تھا۔

مضمون کے مطابق، سابق وزیر اعظم نرسمہا راو نے اپنی کتاب ’ ایودھیا۔ 06 دسمبر‘ میں راجیو گاندھی کے ذریعہ سنگ بنیاد رکھنے کے فیصلے پر سوال اٹھائے۔ وہیں بابری مسجد کا ڈھانچہ گرانے میں خود کے ملوث ہونے کے الزام کو بھی بے بنیاد بتایا اور متنازعہ ڈھانچہ گرانے کا الزام بی جے پی اور وشو ہندو پریشد جیسی تنظیموں پر لگایا۔

لیکن اب کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ بھگوان رام سب کے ہیں۔ پرینکا گاندھی نے بھومی پوجن تقریب کی حمایت میں لکھا تھا کہ’ رام سب میں ہیں،رام سب کے ساتھ ہیں ۔ بھگوان رام اور ماں سیتا کے پیغام اور ان کی مہربانی کے ساتھ رام للا کے مندر کا بھومی پوجن کا پروگرام قومی اتحاد،بھائی چارے اور ثقافت کے انضمام کا موقع بنے گا، جے سیارام۔‘ انہوں نے بھگوان رام کے کردار کو اتحاد کا ذریعہ بتایا اور کہا کہ دنیا اور ہندوستانی ثقافت میں رامائن کا گہرا اثر ہے۔ بھگوان رام ،ماں سیتا اور رامائن کی کہانی ہزاروں برسوں سے ہندوستانی ثقافت اور مذہبی یادگاروں میں کرن کی طرح روشن ہے‘۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT