ہم خیال قائدین نے بھی علیحدگی اختیار کرلی، اقتدار کو بچانے کیلئے بی جے پی سے خفیہ مفاہمت کی قیاس آرائیاں
حیدرآباد: 20 جون (سیاست نیوز) قومی سطح پر بی جے پی کے خلاف اپوزیشن اتحاد کی مساعی کے دوران چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر رائو اپنے غیر واضح موقف کے سبب قومی سیاست میں یکاو تنہا ہوچکے ہیں۔ کے سی آر جنہوں نے بی آر ایس کے قیام سے قبل قومی سطح پر فیڈرل فرنٹ کے قیام کی مساعی کی اور مختلف ریاستوں کے چیف منسٹرس اور علاقائی پارٹیوں کے قائدین سے ملاقات کی۔ کے سی آر نے کانگریس اور بی جے پی کے متبادل کے طور پر فیڈرل فرنٹ کے قیام کے لیے ممتا بنرجی، شردپوار، ادھو ٹھاکرے، اکھلیش یادو، ایچ ڈی کمارا سوامی، ایم کے اسٹالن اور دیگر قائدین سے مشاورت کی تھی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ کئی قائدین نے کانگریس کے بغیر محاذ کی تیاری کی مخالفت کی۔ جس کے بعد کے سی آر نے فیڈرل فرنٹ کے قیام کی سرگرمیوں کو ترک کردیا اور بی آر ایس کے قیام کے ذریعہ قومی سطح پر سرگرمیوں کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ عام انتخابات سے قبل قومی سطح پر بی جے پی سے مقابلہ کے لیے چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے اپوزیشن اتحاد کی مساعی کی ہے جس کے حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ پٹنہ میں 23 جون کو اپوزیشن قائدین کا اجلاس منعقد ہوگا۔ اجلاس میں شرکت کے لیے کے سی آر کو بھی دعوت دی گئی لیکن وہ بی جے پی اور کانگریس دونوں سے مساوی دوری برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی سے متعلق کے سی آر کی غیر واضح پالیسی نے انہیں قومی سیاست میں یکاو تنہا کردیا ہے۔ ان کے کئی ہم خیال قائدین بھی دوری اختیار کرچکے ہیں۔ بی آر ایس کے ساتھ کوئی بھی علاقائی پارٹی مفاہمت کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی۔ چیف منسٹر اڈیشہ نوین پٹنائک اگرچہ بی جے پی اور کانگریس دونوں سے مساوی دوری اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن درپردہ بی جے پی سے مفاہمت کرتے ہوئے وہ اپنا اقتدار برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح چیف منسٹر آندھراپردیش جگن موہن ریڈی بھی اپوزیشن اتحاد کی سرگرمیوں سے دور ہیں۔ جگن موہن ریڈی اور نوین پٹنائک دونوں بالواسطہ طور پر بی جے پی سے مفاہمت کرچکے ہیں۔ قومی سطح پر سیاسی پارٹیاں دو محاذوں میں منقسم ہوچکی ہیں۔ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اور کانگریس زیر قیادت یو پی اے کے علاوہ بعض پارٹیاں آزادانہ موقف اختیار کیئے ہوئے ہیں۔ این سی پی کے سربراہ شردپوار جو کے سی آر سے کافی قریبی رہ چکے ہیں، اپوزیشن اتحاد کی سرگرمیوں سے کے سی آر کی دوری کے بعد انہوں نے بی آر ایس کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیا ہے۔ جنتادل سکیولر کے کمارسوامی جو حالیہ عرصہ تک کے سی آر سے قریب رہ چکے ہیں، کرناٹک کے نتائج کے بعد وہ بی جے پی سے دوستی کے امکانات تلاش کررہے ہیں۔ اس طرح کے سی آر اپنے کئی ہم خیال قائدین سے دور ہوچکے ہیں۔ تلنگانہ میں بائیں بازو کی جماعتیں کے سی آر کے ساتھ ہیں لیکن قومی سطح پر کانگریس زیر قیادت اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس سے مفاہمت پر بائیں بازو کی جماعتیں ازسر نو غور کررہی ہے۔ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی نے قومی سطح پر کانگریس کے ساتھ مفاہمت کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بی جے پی کو شکست دی جاسکے جبکہ مغربی بنگال میں کانگریس سے ان کا مقابلہ برقرار رہے گا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق کے سی آر نے تلنگانہ میں اقتدار بچانے کے لیے بی جے پی سیخفیہ مفاہمت کرلی ہے۔ وہ بی آر ایس کے ذریعہ مہاراشٹرا اور مدھیہ پردیش میں مقابلہ کی تیاری کررہے ہیں۔ مہاراشٹرا میں ناندیڑ اور اورنگ آباد پر کے سی آر نے توجہ مرکوز کی ہے لیکن وہاں بی آر ایس کی کوئی مضبوط قیادت دکھائی نہیں دیتی۔ جنوبی ہند کی پارٹی کی حیثیت سے بی آر ایس کے لیے شمالی ہند میں بی جے پی اور کانگریس کے خلاف اپنی شناخت بنانا آسان نہیں ہوگا۔ر