اپوزیشن کا دیہی علاقوں میں صحت کی خدمات بہتر بنانے پر زور

   

دیہی علاقو ں میں صحت کا بنیادی ڈھانچہ کمزور ، علاج کیلئے عوام کو طویل سفر کی زحمت: طارق انور

نئی دہلی: لوک سبھا میں جمعہ کو صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے گرانٹ کے مطالبات پر بحث کے دوران اپوزیشن اراکین نے غریبوں اور دیہی علاقوں کے لیے صحت کی خدمات میں توسیع کا مطالبہ کیا، جب کہ حکمراں جماعت نے تجویز پیش کی کہ ریاستی حکومتوں کو بھی اپنے بجٹ میں اضافہ کرنا چاہئے تاکہ صحت کے شعبہ میں مختص بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکے ۔بحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس کے طارق انور نے صحت کے شعبے میں کم اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے ملک بھر میں ہر شہری کو صحت کی مناسب خدمات فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں صحت کا بنیادی ڈھانچہ کمزور ہے اور لوگوں کو علاج کے لیے اب بھی طویل سفر طے کرنا پڑتا ہے ۔طارق انور نے کہا کہ بہار میں صحت کی دیکھ بھال کی حالت اب بھی قابل رحم ہے ، وہاں کے لوگوں کو علاج کے لیے دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس ) میں آنا پڑتا ہے ۔انور نے کہا کہ آیوشمان کارڈ رکھنے والوں کو کم فائدہ مل رہا ہے جبکہ پرائیویٹ اسپتال اس سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ادویات کی قیمتیں کم کی جائیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے سنجے جیسوال نے کہا کہ بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے مختص رقم میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب، کرناٹک اور تلنگانہ ریاستوں میں صحت کی خدمات پر عوامی اخراجات بہت کم ہیں، اس کو نوٹ کرنے کی ضرورت ہے ۔مدھیہ پردیش اور بہار میں ہندی میں چلائے جانے والے طبی تعلیم کے کورسز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے جیسوال نے کہا کہ تمام ریاستوں کو علاقائی زبانوں میں طبی تعلیم کے کورس تیار کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو میں تمل زبان میں طبی تعلیم فراہم کی جانی چاہئے ۔سماج وادی پارٹی کے لال جی ورما نے صحت خدمات کے بجٹ میں اضافہ کا مطالبہ کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ ہر میڈیکل کالج میں پوسٹ گریجویٹ سطح تک میڈیکل کی تعلیم کا انتظام کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل کالجوں میں ریزیڈنٹ ڈاکٹرز مریضوں کے علاج میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس کے پیش نظر پوسٹ گریجویٹ میڈیسن وہاں دستیاب کرائی جانی چاہئیں۔ انہوں نے ادویات کی قیمتوں پر قابو پانے کا مطالبہ کیا۔ترنمول کانگریس کی ڈاکٹر شرمیلا سرکار نے لائف انشورنس اور ادویات پر گڈس اینڈ سروس ٹیکس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ذہنی صحت پر زیادہ توجہ دینے اور غریب اور دیہی مریضوں کے علاج کے لیے فنڈز میں اضافے کرنے کا مطالبہ کیا۔ڈاکٹر سرکار نے آنگن واڑی ورکرس، اے این ایم اور آشا ورکرس کے اعزازیہ میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ڈی ایم کے کی رانی سری کمار نے غریبوں اور دیہاتوں کے لیے بہتر طبی انتظامات کے لیے مزید بجٹ کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔