چیف منسٹر کے خلاف کارروائی نہیں لیکن اپوزیشن کی گرفتاری، ہنمنت رائو کا الزام
حیدرآباد۔ 3 جون (سیاست نیوز) سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت رائو نے ڈائرکٹر جنرل پولیس مہیندر ریڈی پر اپوزیشن کو کچلنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ چیف منسٹر کی ہدایت پر ریاست بھر میں پولیس کے ذریعہ اپوزیشن کو کمزور کرنے کی سازش کی جارہی ہے اور عوامی مسائل پیش کرنے پر فرضی مقدمات عائد کئے جارہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت رائو نے کہا کہ پولیس کے ذریعہ اپوزیشن کو کچلنے کا رجحان غیر جمہوری اور غیر دستوری ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ وہ دن دور نہیں جب عوام حکومت کے خلاف بغاوت کردیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کونڈا پوچما ذخیرہ آب کی افتتاحی تقریب کے موقع پر سماجی دوری کیوں برقرار نہیں رکھی گئی۔ چیف منسٹر اور وزراء نے ماسک کا استعمال تک نہیں کیا لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اپوزیشن قائدین جیسے ہی عوامی مسائل کے سلسلہ میں باہر نکلتے ہیں، ان پر کورونا قانون کے تحت مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔ سماجی فاصلہ اور انتہائی کم تعداد میں کانگریس قائدین آبپاشی پراجکٹس کا معائنہ کرنا چاہتے تھے۔ کانگریس دور حکومت میں تعمیر کئے گئے پراجکٹ کی حالت جاننے کا ہمیں حق حاصل ہے۔ لیکن لاک ڈائون کے نام پر گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون میں رعایتوں کے بعد کورونا کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ہنمنت رائو نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے سی آر کی محنت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ڈاکٹر چناریڈی اور ملکارجن جیسے قائدین نے 1969ء میں تلنگانہ تحریک شروع کی تھی۔ اس وقت پولیس فائرنگ میں 360 افراد کی موت واقع ہوئی۔ اب جبکہ سونیا گاندھی نے تلنگانہ عوام کی قربانیوں کو دیکھتے ہوئے علیحدہ ریاست کا تحفہ دیا ہے۔ کے سی آر اسے اپنے کارنامے کے طورپر پیش کررہے ہیں۔ ہنمنت رائو نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور وظیفہ یاب ملازمین کے پنشن میں کٹوتی کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر گجویل، سرسلہ اور سدی پیٹ کے لیے چیف منسٹر ہیں اور صرف ان علاقوں کی ترقی کے لیے کام کررہے ہیں۔