حیدرآباد۔4اگسٹ(سیاست نیوز) ملک کی معیشت میں گراوٹ اور مہنگائی میں اضافہ کی بنیادی وجہ تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ہے اور اس اضافہ کے سبب دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے جو کہ شہریوں کے لئے انتہائی تکلیف کا باعث بنا ہوا ہے لیکن حکومت کی جانب سے تیل کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے اقدامات نہ کئے جانے کے سبب دیگر اشیاء کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کے لئے بھی حکومت کو ہی ذمہ دار گردانا جا رہاہے علاوہ ازیں عالمی سطح پر چین اور امریکہ کے تجارتی تعلقات میں پیدا ہونے والی خلیج کے سبب جو حالات رونما ہوئے ہیں اس کا اثر بھی ہندستانی معیشت پر مرتب ہوتا جا رہاہے ۔ اتنا ہی نہیں اگر 2014 سے 2019 کے درمیان قرض نادہندگان اور کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو اس میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے لیکن اس کا معیشت پر کوئی مثبت اثر نہیں پڑ رہا ہے کیونکہ سابق میں جو قرض جاری کئے گئے تھے وہ بینکوں کو واپس نہ ملنے کے سبب بینکوں کی حالت ابتر ہے اور ان میں کوئی سدھار نہیں آرہا ہے ۔حکومت ہند کی جانب سے معیشت میں سدھار کے لئے سخت اصلاحات کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن ہندستانی معیشت بتدریج گراوٹ کا شکار ہونے لگی ہے اور اس بات کا سب کو احساس ہے لیکن حکومت کے کسی گوشہ سے اس مسئلہ کے حل کے لئے اقدامات پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے بلکہ دیگر ایسے حساس موضوعات پر بحث و مباحث کئے جا رہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے معیشت کی تباہی پر کوئی سوال ہی نہیں کر رہاہے۔ ہندستانی برآمدات پر ہونے والے اثرات کو دور کرنے کے لئے جو اقدامات کئے جانے چاہئے ان اقدامات کے متعلق غور نہ کئے جانے کے علاوہ بینکوں کو کروڑہا روپئے کی دھوکہ دہی کا شکار بنانے والوں سے رقومات کی عدم وصولی کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ حکومت اگر اس جانب توجہ مبذول کرتی تو صورتحال کچھ اور ہوتی جو کہ ہندستانی معیشت کو انحطاط کا شکار ہونے نہیں دیتی ۔ برطانیہ کے نئے وزیر اعظم بورس جانسن کے انتخاب کے بعد ہندستانی برآمدات میں فوری کوئی تبدیلی کے نمایاں آثار نہیں ہیں اور کہا جا رہاہے کہ اگر نریندر مودی کے ان 5سالوں کے دوران غیر کارکرد بینک کھاتوں کی تعداد میں گراوٹ نہیں لائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں عوامی شراکت داری کے ساتھ چلائے جانے والے بینکوں کی حالت بھی مزید ابتر ہوتی چلی جائے گی اور اسے سنبھالنا مشکل ترین امر ہوجائے گا۔ ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ ہندستان کے خزانہ میں دولت نہ ہونے کے سبب ہندستانی حکومت کوئی ایسا فیصلہ کرنے سے قاصر ہے جو کہ معاشی اصلاحات میں اہم اور کلیدی کردار ادا کرنے کا موجب بن سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اگر معاشی اصلاحات کے سلسلہ میں قابل عمل پالیسی تیار کرتے ہوئے اقدامات کئے جاتے ہیں اور معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے مراعات کا اعلان کیا جاتا ہے تو ایسے میں حکومت کے خزانہ پر کچھ بوجھ عائد ہوگا لیکن متبدلہ پالیسی سے معاشی حالات میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
