چیف منسٹر ریونت ریڈی اور اہم قائدین کی شرکت، مودی اور امیت شاہ کیلئے اڈانی اور امبانی ہم دو ہمارے دو کی طرح ، بی آر ایس کی خاموشی پر تنقید
حیدرآباد ۔22۔ اگست (سیاست نیوز) آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی اپیل پر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے اسٹاک ایکسچینج میں مبینہ اسکام کے خلاف حیدرآباد کے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ آفس کے روبرو دھرنا منظم کیا گیا۔ اڈانی گروپ کے اداروں میں سیبی کے سربراہ کی جانب سے سرمایہ کاری سے متعلق رپورٹ کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے تحقیقات کا کانگریس پارٹی مطالبہ کر رہی ہے۔ ملک بھرمیں پارٹی کی جانب سے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ دفاتر کے روبرو دھرنا منظم کیا گیا ۔ حیدرآباد میں یادگار شہیدان تلنگانہ گن پارک سے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ آفس تک احتجاجی ریالی منظم کی گئی۔ دھرنے میں چیف منسٹر ریونت ریڈی ، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا، ریاستی وزراء ، ارکان پارلیمنٹ ، ارکان اسمبلی و کونسل کے علاوہ کارکنوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی حکومت اڈانی اور امبانی کے مفادات کی تکمیل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دو ہمارے دو کی طرح نریندرمودی اور امیت شاہ ملک کے دو صنعتی گھرانوں کا تحفظ کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ امریکی ادارہ کی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اسٹاک ایکسچینج کے سربراہ نے اڈانی کی کمپنیوں میں غیر قانونی طریقہ سے سرمایہ کاری کی ہے۔ اس معاملہ کی جانچ کیلئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی اور امیت شاہ کی قیادت میں ملک کو لوٹا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے سیبی کے چیرپرسن سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ استعفیٰ نہ دینے پر مرکزی حکومت کو برطرف کرنا چاہئے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کو اسکام کی جانچ کرنی چاہئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی جے پی ملک کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔ اس لعنت کو ختم کرنا کانگریس کارکنوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بی آر ایس قائدین سے سوال کیا کہ وہ بی جے پی کی دھاندلیوں اور اسکامس پر خاموش کیوں ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے بی جے پی میں انضمام یا عدم انضمام سے کانگریس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کے سی آر دھاندلیوں پر بی جے پی سے سوال کرنے سے کیوں گھبرا رہے ہیں۔ ٹوئیٹر پر مصروف رہنے والے کے ٹی آر مرکزی حکومت کی لوٹ پر تبصرہ کیوں نہیں کرتے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بی جے پی کے ساتھ ہے جو ملک کو لوٹ رہی ہے۔ انہوں نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے مسئلہ پر بی آر ایس سے موقف کی وضاحت کا مطالبہ کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اڈانی اسکام پر جواب دینے کے بجائے نریندر مودی نے راہِ فرار اختیار کی ۔ آزادی سے لے کر 2014 تک ملک کے کئی وزیراعظم رہے اور ملک پر قرض کا بوجھ 55 ہزار کروڑ تھا لیکن نریندر مودی کے 11 برسوں میں ایک لاکھ 15 ہزار کروڑ کا قرض حاصل کیا گیا۔ نریندر مودی نے ملک کے 16 وزرائے اعظم سے زیادہ قرض حاصل کیا ہے۔ ملک میں آبپاشی پراجکٹ کی تعمیر کا سہرا جواہر لال نہرو کے سر جاتا ہے۔ آنجہانی اندرا گاندھی نے بینکوں کو قومیانے کے ذریعہ غریبوںکی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ اندرا گاندھی کے دور میں غریبوں میں اراضیات تقسیم کی گئیں۔ ملک میں ٹکنالوجی انقلاب کے لئے راجیو گاندھی کی مساعی کو خراج پیش کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ملک میں کمپیوٹر اور دیگر ٹکنالوجی کا فروغ راجیو گاندھی کی مرہون منت ہے۔ راجیو گاندھی نے مجالس مقامی میں خواتین کیلئے تحفظات فراہم کئے اور مجالس مقامی کو زائد اختیارات کیلئے دستورمیں ترمیم کی۔ احتجاجی ریالی اور دھرنا میں شرکت کرنے والوں میں ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا ، ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی ، ڈی سیتکا ، سریدھر بابو ، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ، ٹی ناگیشور راؤ ، جوپلی کرشنا راؤ ، پونم پربھاکر، پی سرینواس ریڈی ، اے آئی سی سی جنرل سکریٹری انچارج تلنگانہ دیپا داس منشی ، اے آئی سی سی قائد سلمان خورشید ، ارکان مقننہ عامر علی خاں ، ڈی ناگیندر ، مہیش کمار گوڑ ، جیون ریڈی ، جی ویویک ، بی وینکٹ ، ارکان پارلیمنٹ بلرام نائک ، ملو روی ، کرن کمار ریڈی ، سابق ارکان پارلیمنٹ انجن کمار یادو ، وی ہنمنت راؤ ، محمد اظہرالدین ، سابق رکن اسمبلی جگا ریڈی اور دیگر قائدین شامل ہیں۔ دھرنے کے بعد چیف منسٹر ریونت ریڈی اور دیگر قائدین نے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے عہدیداروں کو یادداشت پیش کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی نے مالیاتی اسکامس کے خلاف ملک گیر سطح پر جدوجہد کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی اپیل پر قائدین اور کارکنوں کی دھرنے میں بڑے پیمانہ پر شرکت کیلئے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی نے گزشتہ چند برسوں میں ملک کے اثاثہ جات کو لوٹنے والوں کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا ہے ۔ ان کا ماننا ہے کہ ملک کے اثاثہ جات پر دراصل عوام کا حق ہے۔ کشمیر سے کنیا کماری تک بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ راہول گاندھی نے اڈانی کی بے قاعدگیوں اور نریندر مودی حکومت کی مہربانیوں کو بے نقاب کیا۔1
راجیو گاندھی کے مجسمہ کی تنصیب کو کوئی طاقت روک نہیں پائے گی: ریونت ریڈی
سکریٹریٹ کے احاطہ میں تلنگانہ تلی مجسمہ کی تنصیب، کسانوں کے قرض معافی پر اپوزیشن کا گمراہ کن پروپگنڈہ
حیدرآباد ۔22۔ اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے سکریٹریٹ کے روبرو آنجہانی راجیو گاندھی کے مجسمہ کی تنصیب کے فیصلہ کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے بی آر ایس قائدین کی جانب سے مخالفت پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ پارٹی کی جانب سے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ دفتر کے روبرو احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ بعض افراد راجیو گاندھی کے مجسمہ کو ہٹانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی طاقت راجیو گاندھی کے مجسمہ کی تنصیب کو روک نہیں سکتی۔ کے ٹی آر کا نام لئے بغیر چیف منسٹر نے کہا کہ اگر آپ کے دادا اور پر دادا بھی آجائے تو وہ راجیو گاندھی کے مجسمہ کو ہٹا نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی کے مجسمہ کو چھونے پر سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے بی آر ایس قائدین سے کہا کہ وہ جب بھی مجسمہ کے پاس آرہے ہیں، تاریخ اور وقت کا اعلان کریں۔ راجیو گاندھی کے بجائے تلنگانہ تلی مجسمہ کی تنصیب کے مطالبہ پر چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس قائدین کو 10 سال بعد تلنگانہ تلی کی یاد آئی ہے ۔ اقتدار کے 10 برسوں میں مجسمہ تلنگانہ تلی نصب کرنے کا خیال نہیں آیا۔ اقتدار سے محرومی کے بعد تلنگانہ تلی سے ہمدردی کی جارہی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ عوام کے لئے سونیا گاندھی تلنگانہ تلی ہے جنہوں نے علحدہ ریاست تشکیل دی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سونیا گاندھی کی سالگرہ کے موقع پر 9 ڈسمبر کو سکریٹریٹ کے احاطہ میں تلنگانہ تلی کا مجسمہ نصب کیا جائے گا اور کانگریس پارٹی یہ ثابت کرے گی کہ وہ تلنگانہ تلی کی حقیقی وارث ہیں۔ چیف منسٹر نے کسانوں کی قرض معافی اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس قائدین قرض معافی اسکیم کے بارے میں جھوٹا پروپگنڈہ کر رہے ہیں۔ کسانوں کو بی آر ایس کی سازش پر بھروسہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کانگریس حکومت کسانوں کے تمام مسائل حل کرنے کیلئے تیار ہے۔ چیف منسٹر نے کسانوں سے کہا کہ وہ ان لٹیروں پر بھروسہ نہ کریں جنہوں نے 10 سال تک ریاست کو لوٹا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس نے 10 برسوں میں اور کانگریس نے 10 ماہ میں عوام کیلئے جو کچھ کیا ، اس پر مباحث کیلئے تیار ہیں۔1