اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو جمہوریت ختم ہو جائے گی: کجریوال

   

سابق چیف منسٹر دہلی کا آر ایس ایس سربراہ کو مکتوب، جواب دینے کی درخواست

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے سربراہ و دہلی کے سابق چیف منسٹر اروند کجریوال نے آر ایس ایس کے صدر موہن بھاگوت کو چہارشنبہ کو ایک خط لکھ کر بی جے پی کی سیاست اور وزیر اعظم نریندر مودی کے طرز عمل پر پانچ سوالات کے جوابات مانگے۔کجریوال نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی قیادت میں مرکز کی حکومت ملک اور اس کی سیاست کو جس سمت لے جا رہی ہے، وہ ہندوستان کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے موہن بھاگوت کو لکھے اپنے مکتوب میں کہا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہمارا ملک اور جمہوریت ختم ہو جائے گی۔خیال رہے کہ کجریوال نے اتوار کو اپنی پہلی عوامی تقریب ’جنتا کی عدالت‘ سے بھی موہن بھاگوت سے سوالات پوچھے تھے اور اب باضابطہ خط لکھ کر انہی سوالات کو دہرایا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا آر ایس ایس مرکزی ایجنسیوں کا استعمال کر کے سیاسی جماعتوں کو توڑنے، اپوزیشن جماعتوں کی حکومتیں گرانے اور ’کرپٹ‘ رہنماؤں کو اپنے حق میں کرنے کی بی جے پی کی سیاست سے متفق ہے؟ان کا ایک سوال ہے کہ کیا ریٹائرمنٹ کی عمر سے متعلق بی جے پی کا اصول مودی پر بھی لاگو ہوتا ہے، جیسا کہ لال کرشن آڈوانی پر لاگو ہوا تھا۔ کجریوال نے ایک اور سوال میں بھاگوت سے پوچھا کہ جب بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے کہا کہ ان کی پارٹی کو اپنے نظریاتی رہنما قومی آر ایس ایس کی ضرورت نہیں ہے، تو انہیں کیسا لگا؟انہوں نے بھاگوت کو لکھے خط میں کہا کہ ہر ہندوستانی کے ذہن میں یہ سوالات ہیں اور مجھے امید ہے کہ آپ ان پر غور کریں گے اور جواب دیں گے۔