عازمین حج کو محمد سلیم کا مشورہ، مسجد صحیفہ میں چوتھے تربیتی اجتماع کا انعقاد
حیدرآباد۔/7 مئی، ( سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ حج کمیٹی جناب محمد سلیم نے عازمین حج سے اپیل کی کہ وہ ایام حج کے دوران مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں زیادہ تر وقت عبادات اور اذکار میں صرف کریں اور دنیاوی اُمور سے پرہیز کریں۔ جناب محمد سلیم آج مسجد صحیفہ اعظم پورہ میں عازمین حج کے چوتھے تربیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ تربیتی اجتماع میں علمائے کرام اور مشائخین نے مناسک حج و عمرہ کے علاوہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے آداب بیان کئے۔ ڈاکٹر عمر علی فاروقی قادری، جناب منیر الدین صوفیانی، مولانا سید شاہ نوراللہ قادری، مولانا سید شاہ مرتضیٰ علی صوفی حیدر قادری، مولانا سید شاہ مصطفی علی صوفی سعید قادری، مولانا سید بندگی بادشاہ ریاض قادری اور اسسٹنٹ ایگزیکیٹو آفیسر عرفان شریف نے مخاطب کیا۔ صدرنشین حج کمیٹی نے کہا کہ مرکزی حکومت سے کامیاب نمائندگی کے بعد حج 2023 کے سفری اخراجات میں 60 ہزار روپئے کی کمی ہوئی ہے اور اگر رباط میں قیام کی سہولت حاصل ہوئی تو منتخب عازمین کو فی کس ایک لاکھ روپئے کی بچت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حج کمیٹی آف انڈیا نے 2100 سعودی ریال کی فراہمی کی اسکیم ختم کردی ہے جس کے نتیجہ میں مجموعی اخراجات میں60 ہزار روپئے کی کمی واقع ہوئی۔ عازمین حج کو اپنے طور پر ریال خریدنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ناظر رباط نے جاریہ سال 500 عازمین کیلئے رباط کے انتظامات کا تیقن دیا ہے۔ اس سلسلہ میں بات چیت جاری ہے اور اندرون ایک ہفتہ صورتحال واضح ہوجائے گی۔ رباط کیلئے عازمین کا انتخاب لاٹری کے ذریعہ کیا جائے گا اور منتخب عازمین کو 50 ہزار روپئے کی بچت ہوگی۔ محمد سلیم نے کہا کہ جس طرح وقف بورڈ میں انہوں نے مفت خدمات انجام دی ہیں اسی طرح حج کمیٹی میں بھی وہ ایک خادم کی طرح عازمین حج کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ حج کیمپ سے روانگی سے لے کر تکمیل حج کے بعد واپسی تک انتظامات کی نگرانی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ سے 15 خادم الحجاج کا انتخاب کیا گیا ہے اور 9 مئی کو ان کا انٹرویو لیا جائے گا۔ انٹرویو کی بنیاد پر انتخاب کو قطعیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایام حج کے دوران عازمین حج کو موبائیل فون اور سوشیل میڈیا کے استعمال کے بجائے زیادہ تر وقت حرمین میں گذارتے ہوئے عبادت اور اذکار کا اہتمام کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ حج کی قبولیت کا اظہار اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ واپسی کے بعد حجاج کرام کی زندگی کس حد تک شریعت کے مطابق ہے۔ حج کے بعد بھی نمازوں اور دیگر عبادات کا پابندی سے اہتمام کیا جائے۔ انہوں نے حج کیمپ اور حج ٹرمنل کے انتظامات سے واقف کرایا۔ر