پیرس: فرانس میں مقیم ایران کے اپوزیشن گروپ قومی مزاحمت کونسل نے گزشتہ کو کہا ہے کہ ایران میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔اگر ان کا تخمینہ درست ہے تو، اس کا مطلب ہے کہ ایران میں وائرس سے متاثرہ افراد کی اموات کی شرح، دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ہلاکتوں کی یہ تعداد ایرانی حکومت کے سرکاری ریکارڈ سے چار گنا زیادہ ہے۔ اس سے قبل ملک کے سینیئر ڈاکٹرز خبردار کر چکے ہیں کہ اصل تعداد، سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہوگی۔این سی آر آئی کی نومنتخب صدر مریم رجاوی نے بڑھتی ہلاکتوں کو تباہ کن قرار دیا ہیانہوں نے کہا کہ یہ امریکی پابندیوں اور اپنے جوہری پروگرام کو ترک کرنے کے بین الاقوامی مطالبات پر ایرانی حکومت کے ردعمل کا براہ راست نتیجہ ہیمریم کا کہنا ہے کہ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے کیونکہ پچھلے ہفتے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے، امریکی اور برطانوی ویکیسنز کو ’ناقابل اعتبار‘ قرار دیتے ہوئے ان کی درآمد پر پابندی کا اعلان کیا ہیان کا مزید کہنا تھا کہ ’خامنہ ای اور پاسدران انقلاب نے لوگوں کو کورونا وائرس کی قتل گاہوں میں بھیج دیا ہے اور ویکسین کی درآمد پر پابندی لگا کر یہ اس سے بھی بڑی تباہی کا سامان کر رہے ہیں۔این سی آر آئی کی فارن افیئرز کمیٹی کے ممبر علی صفوی کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت امریکہ میں اقتدار کی منتقلی اور یورپ کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو ویکیسین تک رسائی نہیں دے رہی۔ یہ لوگوں کو قابو کرنے اور سزا دینے کا ایک ذریعہ ہے۔