ایرانی عوام سڑکوں پر نکل آئے

,

   

تہران : یکم مارچ ( ایجنسیز ) ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاکت کے بعد اتوارکو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ نکلے ہیں۔ان واقعات نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو ڈرامائی طور پر بڑھا دیا اور ایران کے اندر وسیع عوامی ردِعمل کو جنم دیا ہے۔ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے”اسلامی انقلاب کے رہنما شہادت پا گئے” کے الفاظ سے امریکی?اسرائیلی حملوں میں خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔حکومت نے چالیس روزہ قومی سوگ کا اور سات روزہ سرکاری تعطیل کا اعلان بھی کیا ہے۔خامنہ ای کی موت کی خبر کے ردِعمل میں ایک بڑے عوامی ہجوم نے ایران کے مختلف شہروں کی سڑکوں پر احتجاج کیا۔ایرانی ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ مظاہرین، اپنے غم کا اظہار کرنے کے لئے، ہاتھوں میں ایرانی پرچم لئے شہری مراکز میں جمع ہوئے۔تہران میں سینکڑوں افراد انقلاب اسکوائر میں جمع ہوئے اور امریکی اور اسرائیلی اقدامات کی مذمت میں نعرے لگائے۔مقدس شہر قم میں حملوں کی مذمت کے لئے سینکڑوں افراد حضرت معصومہ کے مزار پر جمع ہوئے۔