تہران : تین سینئر عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کو نومبر کے اوائل میں تہران میں ملاقات کرتے ہوئے واضح پیغام بھیجا تھا کہ حماس نے ایران کو 7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملے کے بارے میں مطلع نہیں کیا تھا اور اس لیے تہران حماس کی جانب سے جنگ میں شامل ہونے کی بات کو نہیں مانے گا۔علی خامنہ ای نے اسماعیل ھنیہ کو بتایا کہ ایران براہ راست مداخلت کیے بغیر حماس کے لیے اپنی سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ بعض عہدیداروں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایرانی سپریم لیڈر اور حماس رہنما کی اس بات چیت کا انکشاف کیا ہے۔حماس کے ایک عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ علی خامنہ ای نے ھنیہ پر زور دیا کہ وہ فلسطینی تحریک میں ان ا?وازوں کو خاموش کر دیں جو کھلے عام ایران اور اس کے لبنانی اتحادی حزب اللہ گروپ سے اسرائیل کے خلاف جنگ میں پوری طاقت کے ساتھ شامل ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔دریں اثنا حزب اللہ کے قریبی تین ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حزب اللہ حماس کی طرف سے گزشتہ ماہ شروع کیے گئے حملے سے بھی حیران تھا اور سرحد کے قریب دیہاتوں میں بھی حزب اللہ کے جنگجو اس حملے کے لیے تیار نہیں تھے۔حزب اللہ کے ایک رہنما نے کہا کہ ہم جنگ کے لیے بیدار ہیں۔ اپنی طرف سے بیروت میں کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر میں حزب اللہ کے امور کے ماہر مہند الحاج علی نے کہا کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے نے اس کے شراکت داروں کو اپنے سے بہت بڑی اور طاقتور فوج کے ساتھ لڑنے کے انتہائی مشکل انتخاب کے سامنے کھڑا کردیا ہے۔یاد رہے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں پر حماس کے اچانک حملے کے بعد عراق، شام اور لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ کئی دھڑوں اور گروہوں کی طرف سے اسرائیل کو دھمکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یمن میں حوثی باغیوں نے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون بھی داغے ہیں۔ بہت سے مغربی ملکوں اور تجزیہ کاروں نے غزہ میں جاری جنگ کے وسیع تر علاقائی تنازع میں پھیلنے کے امکان سے خبردار کیا ہے۔