یہ جنگ اُسی وقت ختم ہوگی جب ایران کی فوج اور حکمراں ختم ہوجائیں گے: ٹرمپ
واشنگٹن : 8 مارچ ( یو این آئی ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ شاید اس وقت ہی ختم ہوگی جب ایران کی فوج اور اس کے حکمران کا خاتمہ ہو جائے گا۔خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق اسی دوران اتوار کو ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔امریکی صدر نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ آخر میں شاید کوئی باقی بچے گا جو یہ کہہ سکے کہ ہم ہتھیار ڈال رہے ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ خطے میں موجود کرد جنگجو ایران کی حکومت کو گرانے کی کوششوں میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن ان کی شمولیت سے تنازع مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’کردوں کو شامل کیے بغیر ہی جنگ کافی پیچیدہ ہے۔‘صدر ٹرمپ نے 2003 میں عراق پر حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑی امریکی فوجی کارروائی کو یہ کہتے ہوئے درست قرار دیا کہ تہران امریکہ کے لیے فوری خطرہ بن چکا تھا، تاہم انہوں نے اس کے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کے بہت قریب پہنچ گیا تھا۔اْدھر امریکہ کے اتحادی اسرائیل نے اعلان کیا کہ اس نے ایران میں مزید حملے کیے گئے ہیں اور ان حملوں میں اہم ایندھن ذخیرہ کرنے کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔دوسری جانب ایران میں ا?ج اتوار کو نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ وہ نئے آنے والے ہر سپریم لیڈر کا تعاقب کرے گی۔ایکس پر فارسی میں ایک پوسٹ میں اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا کہ وہ خامنہ ای کے جانشین کو منتخب کرنے والے ہر شخص کا تعاقب کرے گی۔ اسرائیلی فوج کا اشارہ اْس مذہبی ادارے کی طرف تھا جو ایران کے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے ذمہ دار ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے اگلے سپریم لیڈر کو منتخب کرنے والا مذہبی ادارہ اتوار کو اجلاس کر کے آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کا اعلان کرے گا۔مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی اسمبلی آف ایکسپرٹس کے رکن آیت اللہ محمد مہدی میرباقری نے بتایا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے لیے زیادہ تر ارکان نے ایک نام پر اتفاق کیا ہے۔
ایران کی جنگ جیت چکے !
ٹرمپ نے برطانوی مدد مستر کردی
واشنگٹن : 8مارچ ( ایجنسیز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کو ایران کے خلاف جاری جنگ میں برطانیہ کے طیارہ بردار جنگی جہازوں کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اس جنگ میں پہلے ہی کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے دو طیارہ بردار جہاز بھیجنے پر غور کر رہا ہے، لیکن اب امریکہ کو اس مدد کی ضرورت نہیں رہی۔ان کا یہ بیان برطانوی وزارتِ دفاع کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ برطانیہ کے جدید طیارہ بردار جہاز HMS Prince of Wales کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ٹرمپ نے اپنے پیغام میں برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو ایسے اتحادیوں کی ضرورت نہیں جو جنگ جیتنے کے بعد شامل ہوں۔ انہوں نے برطانیہ کو ‘‘کبھی عظیم اتحادی’’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس بات کو یاد رکھے گا۔یہ بیان امریکہ اور برطانیہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب امریکا اور اسرائیل 28 فروری سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔برطانیہ نے اگرچہ اس جنگ میں براہ راست شامل ہونے سے انکار کیا ہے، تاہم اس نے امریکہ کو محدود دفاعی مقاصد کے لیے اپنی فوجی تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
ایران کو جنگ میں جھونکنے والا صدر نہیں چاہیئے: ٹرمپ
واشنگٹن : 8 مارچ ( ایجنسیز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کردیا کہ ہم ایران میں ایسا صدر چاہتے ہیں جو ملک کو جنگ کی طرف نہ لے جائے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے بعد ایران کا نقشہ شاید ویسا نہیں نظرآئیگا جیسا ابھی ہے، یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ کسی سمجھوتے یا سیٹلمنٹ کی تلاش میں نہیں، دعوی کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کرد فورسز ایران میں داخل ہوں۔امریکی صدر نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے ایران کی مدد کے کوئی شواہد نہیں ملے۔صدر ٹرمپ نے ایران میں ایلیمنٹری اسکول پر حملوں سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسکول پر حملہ ایران نے کیا تھا۔امریکی صدر نے گفتگو کے دوران بر طا نوی وزیر اعظم کو بھی طعنہ دیا۔صدر ٹرمپ بولے برطانیہ اب مشرق وسطیٰ میں 2 طیارہ بردار جہاز بھیجنے پرغورکررہا ہے مگر اب ہمیں برطانیہ کی ضرورت نہیں لیکن ہم یہ بات یاد رکھیں گے، ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو جنگ جیتنے کے بعد شامل ہوں۔ادھر کویت میں ڈرون حملے میں ہلاک 6 امریکی فوجیوں کی میتیں ڈیلاویئر پہنچا دی گئیں۔ تقریب میں امریکی صدر اور خاتون اول نے شرکت کی۔
امریکہ۔ اسرائیل اور ایران کی جنگ میں کردوں کو شامل نہیں کرنا چاہتے: ٹرمپ
واشنگٹن۔8 مارچ (ایجنسیز)صدر امریکہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں کرد شامل ہوں۔ٹرمپ نے ہفتے کی شام گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کرد جنگ میں شامل ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس جنگ کو پہلے سے زیادہ مشکل نہیں بنانا چاہتے۔ میں نہیں چاہتا کہ کرد زخمی ہوں یا مارے جائیں۔ہمارے ان کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں۔ وہ جنگ میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیںلیکن حقیقت میں‘ میں نے ان سے کہہ دیا ہے کہ میں نہیں چاہتا کہ وہ اس جنگ کا حصہ بنیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل میڈیا میں ایسی خبریں آئی تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ ایرانی کرد جنگجوؤں کے حملے کی حمایت کریں گے۔