تہران ۔ 23 فروری (ایجنسیز) امریکہ نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر خلیجی خطہ میں قائم اپنے اہم فوجی اڈوں سے اہلکاروں کی جزوی منتقلی شروع کر دی ہے۔ امریکی اخبار دی نیو یارک ٹائمز کے مطابق قطر اور بحرین میں موجود بعض تنصیبات سے سیکڑوں اہلکار واپس بلائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق قطر میں واقع العدید ایئربیس جو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ سمجھا جاتا ہے، سے بھی اہلکاروں کی منتقلی کی گئی۔ اس اڈے پر تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں اور یہ خطہ میں فضائی کارروائیوں کا مرکزی مرکز ہے۔ اسی طرح بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں فلیٹ سے منسلک تنصیبات سے بھی کچھ عملہ ہٹایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ممکنہ ہنگامی صورتحال میں فوجیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے اور اسے فوری جنگی تیاری کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ حکام کے مطابق اس کے باوجود عراق، شام، کویت، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی افواج بدستور موجود ہیں۔ دوسری جانب امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ خطہ میں فوجی طاقت بڑھانے کے باوجود ایران کے رویے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر آئندہ 48 گھنٹوں میں نیوکلیر معاہدہ سے متعلق تجاویز پیش کی گئیں تو جنیوا میں مزید مذاکرات متوقع ہیں۔ عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البسیدی نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جنیوا میں ہوں گے۔ ایرانی کمانڈر علی جہاں شاہی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی افواج دشمن کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات میں پابندیوں میں نرمی اور تیل کے شعبہ میں ممکنہ سرمایہ کاری بھی زیر بحث آ سکتی ہے، تاہم تہران نے اپنے وسائل پر مکمل خودمختاری برقرار رکھنے کا عزم دہرایا ہے۔