ایران روس کو بیلسٹک میزائل فراہم نہ کرے، امریکی سینئر اہلکار کے مطابق پابندیوں پر غور و خوض
واشنگٹن : امریکہ اور اتحادیوں نے جمعہ کے روز ایران کو انتباہ کیا کہ اگر تہران نے یوکرین کے ساتھ جنگ کے لیے روس کو بیلسٹک میزائل فراہم کرنے کے ایک ابتدائی منصوبے کو آگے بڑھایا تو بڑی مغربی معیشتیں اس پر نئی پابندیاں عائد کر دیں گی۔ بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہل کار کے مطابق، ایک اقدام جس پر سات ملکوں کا گروپ غور کر رہا ہے، وہ یہ ہے کہ ملک کی قومی ایئر لائن ، ایران ائیر کو یورپ کے لیے پرواز کرنے سے منع کر دیا جائے۔ اہل کار نے، جسے تبصرہ کرنے کا اختیار نہیں تھا اور اس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے پر زور دیا، ان دوسری پابندیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا جن پر امریکہ غور کر رہا ہے لیکن اس نے ممکنہ کارروائی کو اہم اقدامات کے طور پر بیان کیا۔ بائیڈن انتظامیہ کئی ماہ سے خبردار کر رہی ہے کہ روس ایران سے کم فاصلہ تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ وہ اپنی کم ہوتی ہوئی سپلائی کو بھرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے جمعہ کو ویانا میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم نے ایران کو بہت واضح پیغامات بھیجے ہیں کہ ایسا نہ کیا جائے، یہ یورپ اور امریکہ کے متعدد ملکوں کے درمیان تفصیلی گفت و شنید کا موضوع ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس امکان کے بارے میں تشویش اور اگر ضروری ہو تو اس سے نمٹنے کی ضرورت ، بہت حقیقی اور بہت مضبوط ہے۔ گروپ سیون نے ایک بیان میں کہا کہ اگر ایران روس کو بیلسٹک میزائل یا متعلقہ ٹیکنالوجی فراہم کرتا ہے تو ہم ایران کے خلاف نئے اور اہم اقدامات سمیت فوری اور مربوط انداز میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ امریکہ نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ میزائل ایران سے روس منتقل ہو چکے ہیں۔ لیکن امریکی اور یورپی حکام کو ایرانی حکام کی جانب سے ان عوامی تبصروں سے تشویش لاحق ہوئی ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی معاہدہ عنقریب ہونے والا ہے۔ ڈیموکریٹک انتظامیہ نے جنوری میں کہا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس حکام نے یہ متعین کیا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان معاہدہ طے نہیں پایا ہے لیکن انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ روس کی جانب سے ایران سے میزائل حاصل کرنے کے لیے بات چیت فعال طور پر آگے بڑھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اسے بیلسٹک میزائل کی فروخت سے روکنے کے لیے کوئی قانونی پابندی نہیں ہے لیکن وہ “اخلاقی طور پر اس کا پابند ہے کہ روس اور یوکرین کے تنازعہ کے دوران جنگ کو ہوا دینے سے روکنے کے لیے ہتھیاروں کے لین دین سے احتراز کرے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، ایران نے ستمبر میں، روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو کی میزبانی کی تھی تاکہ وہ بیلسٹک میزائل سسٹم کے ایک سلسلے کو دکھا سکیں۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے اس امریکی تشویش کو جنم دیا کہ کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ، ایران نے گزشتہ سال روس سے Su۔35 لڑاکا طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا اور وہ اس سے حملہ آور ہیلی کاپٹر، ریڈار اور جنگی تربیتی طیاروں سمیت مزید جدید فوجی ساز و سامان خریدنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ،روس کو ایران سے سینکڑوں یک طرفہ حملہ کرنے والے ڈرونز کے ساتھ ساتھ ڈرون کی تیاری سے متعلق ساز و سامان بھی ملا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ تہران پر روس کو ماسکو کے مشرق میں ڈرون مینوفیکچرنگ پلانٹ بنانے کے لیے مواد فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کر چکی ہے۔