واشنگٹن ۔ 3 مارچ (ایجنسیز) ایران پر حالیہ امریکہ اسرائیل مشترکہ حملوں کے بعد ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے کہ ان کارروائیوں میں مصنوعی ذہانت کس حد تک استعمال کی گئی ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے سان فرانسسکو میں قائم کمپنی Anthropic کے تیار کردہ اے آئی سسٹم ’کلاؤڈ‘ کو مختلف فوجی مقاصد کے لیے بروئے کار لایاہے۔ اس ٹیکنالوجی کو انٹلیجنس تجزیے، ممکنہ اہداف کی نشاندہی اور جنگی مشقوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کے استعمال میں بڑے پیمانے پر ڈیٹا اکٹھا کر کے اس کا تجزیہ کیا گیا تاکہ دشمن کی نقل و حرکت اور دفاعی پوزیشنز کا اندازہ لگایا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگی حکمت عملی میں اے آئی کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے اور حالیہ کارروائیاں اسی رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔ دلچسپ اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل ہی وفاقی اداروں کو اس مخصوص ٹیکنالوجی کے استعمال سے روکنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ کمپنی نے اپنے ماڈلز کو براہ راست فوجی استعمال کی اجازت دینے سے گریز کیا تھا، جس کے بعد حکومتی سطح پر اختلافات سامنے آئے۔ باوجود اس کے، بعض فوجی یونٹس نے کارروائی کے دوران اس سسٹم سے استفادہ جاری رکھا۔