ایران پر حملے ، عالمی امن و سلامتی کیلئے خطرہ : احمداحمدیہ

   

حیدرآباد ۔ 3 ۔ مارچ : ( پریس نوٹ ) : قونصل جنرل جمہوری اسلامی ایران متعینہ حیدرآباد عزت مآب احمد احمدیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ 28 فروری 2026 نوروز کی آمد اور ماہ رمضان کے دسویں روز ، امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی علاقائی سالمیت اور قومی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ۔ اس جارحیت کے دوران رہبر معظم انقلاب اسلامی ان کے اہل خانہ ، اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور ملک کے مختلف شہری علاقوں کو نشانہ بنا کر شہید کردیا گیا ۔ یہ بزدلانہ کارروائی ایران کی قومی خود مختاری کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل کے یہ فضائی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 ، پیراگراف 4 کی کھلی خلاف ورزی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف واضح مسلح جارحیت ہے ۔ اس جارحیت کے جواب میں اسلامی جمہوریہ ایران اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے فطری اور قانونی حق دفاع کو محفوظ رکھتا ہے ۔ ایران کی مسلح افواج اس مجرمانہ کارروائی کا مقابلہ کرنے اور دشمنانہ اقدامات کو روکنے کے لیے تمام ضروری دفاعی صلاحیتیں استعمال کریں گی ۔ نتیجتاً خطے میں موجود دشمن قوتوں کے تمام اڈے ، تنصیبات اور اثاثے جائز فوجی اہداف تصور کیے جائیں گے ۔ ایران اپنے اس موروثی حق کو اس وقت تک بھر پور طریقے سے استعمال کرے گا جب تک کہ جارحیت مکمل اور غیر مبہم طور پر ختم نہیں ہوجاتی ۔ ان غیر قانونی اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تمام نتائج ، بشمول کشیدگی میں اضافے کی براہ راست اور بالواسطہ ذمہ داری اسرائیلی اور امریکی جارحیت پسندوں پر عائد ہوتی ہے ۔ ایران کے خلاف مسلح جارحیت کے علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر مرتب ہونے والے سنگین اثرات کے پیش نظر ، اسلامی جمہوریہ ایران اقوام متحدہ اور خاص طور پر سلامتی کونسل کی بنیادی ذمہ داری پر زور دیتا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے کی جانے والی اس ننگی فوجی جارحیت کے خلاف فوری کارروائی کرے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران اقوام متحدہ کے ان تمام رکن ممالک سے جو عالمی امن و سلامتی کے علمبردار ہیں مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس جارحیت کی شدید مذمت کریں اور ان حملوں کے خلاف فوری اجتماعی کارروائی کریں جو بلاشبہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے ایک بے مثال خطرہ ہیں ۔۔