ایران کا جوہری معاہدے پر مشورے کا سعودی مطالبہ مسترد

   

تہران: ایران نے سعودی عرب کی جانب سے خلیجی ریاستوں کے لیے اپنے جوہری پروگرام پر ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے بارے میں صلاح مشورے کے مطالبے کو یکسر مسترد کردیا۔ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ہفتے کے روز مطالبہ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے موقع پر سعودی عرب سے ‘مکمل مشاورت’ کی جائے۔انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہر کوئی بات کرنے میں آزاد ہے لیکن بہتر ہے کہ وہ اپنی حدود سے باہر بات نہ کریں تاکہ انہیں شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ترجمان نے سعودی مؤقف پر بار بار سوالات کے جواب میں کہا کہ خطے میں ایک معمولی ملک کی جگہ کے بارے میں بہت زیادہ سوچنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔خطیب زادہ نے سعودی عرب پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ انتہا پسندانہ نظریے کی مالی اعانت اور عرب اور مسلم دنیا کی بہت سی پریشانیوں کے ذمہ دار ہیں، انہوں نے کہا کہ سعودی عوام اس سے بہتر کے مستحق ہیں۔دوسری جانب امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کہہ چکے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ مشترکہ جامع منصوبہ بندی یا جے سی پی او اے کے نام سے مشہور 2015 کے جوہری معاہدے پر واپس آ جائے۔