واشنگٹن ۔7؍مارچ ( ایجنسیز )امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ایران کو ’بہت زیادہ شدت سے نشانہ‘ بنایا جائے گا اور فوج نئے نشانوں پر غور کر رہی ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیے گئے بیان میں امریکی صدر نے ایرانی صدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے ’معافی مانگی ہے اور اپنے مشرق وسطیٰ کے پڑوسیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں جبکہ وعدہ کیا ہے کہ وہ اب ان پر حملہ نہیں کرے گا۔صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی صدر نے یہ وعدہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے کیا ہے۔ایرانی صدر کی جانب سے پڑوسی ممالک پر حملے نہ کرنے کے اعلان کے باوجود دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے قریب ایک ڈرون گرا جبکہ قطر کا بھی یہ کہنا ہے کہ اس نے ایک میزائل کو روکا ہے۔بعدازاں ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ آج ایران کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا۔اْن کا کہنا تھا کہ ’ایران میں مکمل تباہی اور یقینی موت کے بارے میں سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ایسے علاقوں اور افراد کو نشانہ بنایا جائے گا جنھیں اب تک ہدف نہیں بنایا گیا۔امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں مزید شدت لائی جا سکتی ہے اور ایران کو بہت سخت نشانہ بنایا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایران کے خراب رویے کی وجہ سے اب ایسے علاقوں اور گروہوں کو بھی نشانہ بنانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے جنہیں اس سے پہلے ہدف بنانے پر غور نہیں کیا گیا تھا۔امریکی صدر نے کہا کہ مسعود پزشکیان نے اپنی تقریر میں معذرت کی اور مشرق وسطیٰ کے پڑوسی ممالک کے سامنے ’ہتھیار ڈال دیے اور وعدہ کیا کہ ایران اب ان پر فائرنگ نہیں کرے گا۔ ان کی جانب سے یہ وعدہ صرف اس لیے کیا گیا کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کے مسلسل حملے جاری ہیں۔