ایران کے حملے حق مدافعت کا استعمال : رئیسی

   

عالمی برادری کو کئی ماہ سے متنبہ کیا جا رہا تھا : صدر ایران کا بیان
تہران۔14اپریل(سیاست نیوز) ایران نے اپنے دفاعی حق کا استعمال کرکے گذشتہ شب کاروائی کی اور ایران کی مسلح افواج کی جانب سے کی گئی اس کاروائی کے ذریعہ ایران نے اپنے صہیونی دشمن کو سبق سکھایا ہے۔ صدر اسلامی جمہوریہ ایران ابراہیم رئیسی نے اسرائیل پر حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان حملوں کے جواب میں صہیونی طاقتیں کوئی کاروائی کرتی ہیں تو اس کا مزید سخت جواب دیا جائے گا۔ صدر ایران نے کہا کہ ایران نے اسرائیل کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جس میں وہ کامیاب ہے اور اس کاروائی کے سلسلہ میں ایران مسلسل عالمی برادری کو متنبہ کرتا رہا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ اقوام متحدہ کی سیکیوریٹی کونسل کے غیر مؤثر ہونے کے سلسلہ میں بھی گذشتہ کئی ماہ سے ایران عالمی برادری کو متنبہ کرتا رہا ہے۔ انہوں نے اس حملہ کو انسانیت کے دشمنوں پر حملہ اور ان کو ذلیل کرنے اور ان میں خوف پیدا کرنے والے حملے قراردیا۔ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ایران خطہ میں امن چاہتا ہے اور اس کے لئے وہ مسلسل صہیونی طاقتوں کو ظالمانہ کاروائیوں سے باز رکھنے کی کوشش کرتارہا ہے۔ انہو ں نے گذشتہ 6ماہ سے جاری غزہ میں صہیونی کاروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیکیوریٹی کونسل کی قراردادوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اسرائیل معصوم شہریوں کو نشانہ بنارہا ہے۔ صدر ایران نے بتایا کہ گذشتہ شب کئے گئے آپریشن کے دوران ایران نے کسی بھی شہری علاقہ کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ عالمی قوانین کے مطابق اپنے حق دفاع کا استعمال کرتے ہوئے صہیونی دفاعی تنصیبات پر میزائل داغے گئے ہیں۔ انہوں نے صہیونی طاقتوں کے متعلق کہا کہ وہ عالمی عدم استحکام کا سبب بن رہی ہیں اور مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتی جا رہی ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ مزاحمت کے ذریعہ ہی خطہ میں امن کی بحالی استحکام پیدا کیا جاسکتا ہے جو کہ خطہ میں کئے گئے قبضوں اور دہشت گردانہ کاروائیوں کو ختم کرسکتاہے۔3