یروشلم ۔ 28 فروری (ایجنسیز) اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ایران پر حملے سے متعلق کہا ہے کہ ایرانی رجیم کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے امریکہ و اسرائیل نے آپریشن شروع کیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ و اسرائیل نے ایرانی دہشت گردی کی حکومت کے موجودہ خطرے کو دور کرنے کے لیے یہ آپریشن شروع کیا ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ آپریشن ایرانی لوگوں کے لیے تقدیر کو اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے حالات پیدا کرے گا، ایران کو نیوکلیر ہتھیاروں سے مسلح ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے اچانک حملے کے بعد ایران نے بھی اسرائیل پر جوابی حملہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق خطرے سے نمٹنے کے لیے دفاعی نظام آپریٹ کر رہے ہیں، ایرانی میزائل اسرائیل کے شمالی علاقوں کی جانب داغے گئے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام نے شہریوں کو شیلٹرز میں جانے کی ہدایت کر دی ہے۔
اسرائیل کے ایران پر حملہ سے خطہ میں کشیدگی عروج پر
یروشلم ۔ 28 فروری (ایجنسیز) اسرائیل نے آج بروز ہفتہ ایران کے خلاف ایک’’پیشگی‘‘ حملہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد خطہ میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ یہ کارروائی ’’خطرات کو ختم کرنے‘‘ کے لیے کی گئی، تاہم انہوں نے فوری طور پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ عینی شاہدین کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں ہفتہ کو زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہدف کیا تھا۔ ایرانی حکومت کی جانب سے ابتدائی طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران اورامریکہ کے درمیان تہران کے نیوکلیر اور میزائل پروگرام پر کشیدگی عروج پر ہے۔ واشنگٹن ایران پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے خطہ میں لڑاکا طیاروں اور جنگی جہازوں کا بڑا بیڑا تعینات کر چکا ہے۔ ادھر اسرائیل بھر میں سائرن بجنے لگے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ ’’پیشگی انتباہ‘‘ ہے تاکہ عوام کو ممکنہ میزائل حملوں کے خدشے کے پیش نظر تیار کیا جا سکے۔ اسرائیل کی ایئرپورٹس اتھاریٹی نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی فضائی حدود شہری پروازوں کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔ یہ ایک بریکنگ خبر ہے، مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔