تہران : ایران کی وزارتِ خارجہ نے تہران میں متعیّن آسٹریلیا کے ناظم الامور کو طلب کیا ہے اور ان سے ‘مداخلت پسندانہ بیان’ اور مختلف شخصیات اور اداروں پر پابندیوں کے نفاذ کیخلاف احتجاج کیا ہے۔ آسٹریلیا نے چہارشنبہ کو ایران میں خواتین اور لڑکیوں سمیت لوگوں پر جبرواستبداد کے ذمہ دار چار افراد اور تین اداروں پر مالی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس کے علاوہ ان افراد پر سفری پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔آسٹریلیا نے ایران کی پولیس کے ترجمان سعید المنتظرالمہدی پرتازہ پابندیاں عاید کی ہیں۔اس کے علاوہ پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں ایران کی سائبرپولیس اور سرکاری پریس ٹی وی بھی شامل ہیں۔ایران کی وزارتِ خارجہ نے اس اعلان کے بعد جمعرات کو تہران میں’’آسٹریلیائی سفارتخانے کے ناظم الامور کو طلب کیا ہے اورانھیں آسٹریلیا کی ایران کے داخلی امور میں مداخلت اور پابندیوں کے خلاف ملک کے سخت اعتراضات سے آگاہ کیا ہے۔ آسٹریلیا کی پابندیوں کا اعلان ایرانی پولیس کی حراست میں مہساامینی کی ہلاکت کی پہلی برسی سے قبل سامنے آیا ہے۔22سالہ ایرانی کرد امینی کو گزشتہ 16 ستمبرکو تہران میں خواتین کیلئے سخت ضابطہ لباس کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتارکیا گیا اور وہ اس کے تین روز بعد پولیس حراست میں فوت ہوگئی تھی۔