ایران کے ساتھ معاہدہ ضرور ہوا لیکن موقف تبدیل نہیں ہوا

   

واشنگٹن : ایران کے ساتھ امریکی قیدیوں کے معاہدے کے باوجود امریکہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے خلیج میں اپنی زیادہ مسلح افواج کو متحرک کر رہا ہے، جس سے ایرانی حکومت سے نمٹنے کے لیے واشنگٹن کی نئی حکمت عملی کے بارے میں مزید ابہام پیدا ہوتا ہے۔اس تناظر میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کا ایران کے بارے میں عمومی نقطہ نظر وہی ہے جو پہلے تھا۔حراست میں لیے گئے امریکیوں کے بارے میں ایک سمجھوتے تک پہنچنے کے بعد اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ ڈیٹرنس کی حکمت عملی پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے مگر ساتھ ہی وہ دباؤ اور سفارت کاری کی بھی کوشش کررہے ہیں۔بلنکن نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ انہوں نے پیر کو کچھ امریکی زیر حراست افراد کے اہل خانہ سے بات کی جنہیں چند روز قبل ایران میں گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔بلنکن نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکہ کا ایرانی فنڈز پر بہت زیادہ کنٹرول ہو گا جو معاہدے کے فریم ورک کے اندر جاری ہو سکتے ہیں۔