ایرپورٹ کے قریب 16 ایکر وقف اراضی پر نئی فروٹ مارکٹ سے چیف منسٹر کا اتفاق

   

ریاستی وزراء محمود علی اور نرنجن ریڈی کو ذمہ داری، باٹا سنگارم کے علاوہ ایک نئی مارکٹ پر حکومت کو اعتراض نہیں
حیدرآباد۔7 ۔اکتوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے شمش آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ کے قریب 16 ایکر وقف اراضی پر فروٹ مارکٹ کے قیام کی تجویز سے اتفاق کیا۔ انہوں نے ریاستی وزراء محمد محمود علی اور نرنجن ریڈی کو ہدایت دی کہ اس سلسلہ میں فروٹ تاجروں سے بات چیت کرتے ہوئے منصوبہ تیار کریں تاکہ باٹا سنگارم کے علاوہ ایرپورٹ کے قریب فروٹ مارکٹ قائم ہوسکے۔ اسمبلی میں مجلس کے فلور لیڈر اکبر اویسی نے تجویز پیش کی کہ باٹا سنگارم کے بجائے اگر مامیڑپلی میں 16 ایکر اراضی جو سروے نمبر 19 کے تحت وقف ہے، اس پر فروٹ مارکٹ قائم کی جائے تاکہ وقف اراضی کا تحفظ ہو اور وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ فروٹ مرچنٹس وقف بورڈ کے کرایہ دار بننے کیلئے تیار ہیں۔ حکومت مارکٹ کی نگرانی اور مینٹننس کے ذریعہ ڈیولپمنٹ چارجس وصول کرسکتی ہے جس کا کچھ حصہ وقف بورڈ کو دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس تجویز سے اتفاق کرے تو تاجرین کی گڈی انارم سے منتقلی کی ذمہ داری مجلس قبول کرتی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت نے باٹا سنگارم میں بہتر سہولتیں فراہم کردی ہیں ، لہذا آپ تاجرین کو منتقل ہونے کا مشورہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے اطراف ایک سے زائد فروٹ مارکٹس کے قیام کی ضرورت ہے جس سے عوام کو فائدہ ہوگا۔ باٹا سنگارم کے علاوہ حکومت مامڑ پلی کی وقف اراضی پر فروٹ مارکٹ کے قیام کے لئے تیار ہے اور وہ اس سلسلہ میں وزیر داخلہ محمد محمود علی اور وزیر زراعت نرنجن ریڈی کو ذمہ داری دیتے ہیں کہ وہ تاجرین سے بات کرتے ہوئے کوئی منصوبہ تیار کریں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ منتقلی کے سلسلہ میں تاجرین کی جانب سے شرائط پیش نہ کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر گڈی انارم کے تاجر مامڑپلی منتقل ہونے کیلئے تیار ہیں تو حکومت کو وہاں بھی فروٹ مارکٹ کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ نئی فروٹ مارکٹ سے اطراف کے علاقوں کے عوام کو سہولت ہوگی۔ ر