نئی تواریخ کا عنقریب فیصلہ،حیدرآباد و رنگاریڈی کے ماسوا دیگر اضلاع میں امتحانات کیلئے حکومت تیار نہیں
حیدرآباد۔/6 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ایک اہم فیصلہ میں ریاست بھر میں 8 جون سے شروع ہونے والے ایس ایس سی امتحانات کو پھر ملتوی کردیا ہے۔ تلنگانہ ہائیکورٹ نے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ حیدرآباد و رنگاریڈی کو چھوڑ کر دیگر اضلاع میں ایس ایس سی امتحانات کا انعقاد عمل میں لایا جائے۔ عدالت کے فیصلہ کا جائزہ لینے کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے امتحانات کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ طلبہ و سرپرستوں میں اُلجھن باقی نہ رہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کا کہنا تھا کہ ریاست بھر میں ایک وقت میں امتحانات کے عدم انعقاد سے طلبہ کو دشواریوں و اُلجھن کا سامنا کرنا پڑے گا لہذا آئندہ کسی تاریخ میں ایک وقت میں ایس ایس سی امتحانات منعقد کئے جائینگے۔ اسی دوران وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے امتحانات کے التواکی توثیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ امتحانات کی آئندہ تواریخ و حکمت عملی پر بہت جلد چیف منسٹر کے پاس جائزہ اجلاس منعقد ہوگا جس میں قطعی فیصلہ کیا جائیگا۔ ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق اگر گریٹر حیدرآباد اور رنگاریڈی کو چھوڑ کر دیگر اضلاع میں امتحانات منعقد کئے جاتے تو دونوں کیلئے علحدہ امتحانات میں دشواری ہوسکتی تھی۔ پرچوں کی تیاری اور دیگر اُمور کی تکمیل میں عہدیداروں کو مشکلات کا سامنا تھا۔ اگرچہ حکومت نے ایڈوانسڈ سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی صورت میں ریگولر امیدوار کے طور پر قبول کرنے کا فیصلہ کیا اسکے باوجود عدالت نے حیدرآباد اور رنگاریڈی کو امتحانات سے مستثنیٰ رکھنے کی ہدایت دی کیونکہ ان اضلاع میں کورونا کیسس میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت چاہتی تھی کہ ریاست بھر میں امتحان شیڈول کے مطابق منعقد کیا جائے اور جو طلبہ 8 جون سے امتحان میں حصہ نہ لے سکیں انہیں ایڈوانسڈ سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کا موقع دے کر ریگولر امیدوار تسلیم کیا جائے گا۔
قبل ازیںہائی کورٹ نے گریٹر حیدرآباد اور رنگاریڈی کو چھوڑ کر ریاست کے دیگر اضلاع میں 8 جون سے امتحانات کے انعقاد کی اجازت دیدی تھی ۔ آج دن بھر ہائی کورٹ میں اس مسئلہ پر تجسس برقرار رہا اور چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے حیدرآباد اور رنگاریڈی کو چھوڑ کر دیگر علاقوں میں امتحانات کے انعقاد سے حکومت کے اتفاق کے بعد اپنا فیصلہ سنایا۔ عدالت میں آج جیسے ہی سماعت کا آغاز ہوا ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے ڈیویژن بنچ کو واقف کرایا کہ حکومت نے 8 جون سے امتحانات میں شرکت سے قاصر امیدواروں کو ایڈوانسڈ سپلیمنٹری میں شرکت کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایڈوانسڈ سپلیمنٹری امتحان میں شرکت پر جاریہ تعلیمی سال خصوصی کیس کے طور پر انہیں ریگولر امیدوار شمار کیا جائیگا۔ اس سلسلہ میں حکومت کے احکامات عدالت کے حوالے کئے گئے۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ مقدمہ کی سماعت کی گئی۔ عدالت نے گریٹر حیدرآباد اور رنگاریڈی کو چھوڑ کر دیگر اضلاع میں امتحانات کے انعقاد کی تجویز پیش کی۔ ایڈوکیٹ جنرل نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ وہ اس سلسلہ میں شام 4 بجے حکومت کے فیصلہ سے واقف کرائیں گے۔ شام میں جب دوبارہ سماعت کا آغاز ہوا تو عدالت کو حکومت کے فیصلہ سے آگاہ کیا گیا کہ وہ رنگاریڈی اور گریٹر حیدرآباد کو چھوڑ کر اضلاع میں امتحانات کے انعقاد کیلئے تیار ہے۔ اس پر ہائی کورٹ نے پیر سے امتحانات کے آغاز کی اجازت دی تھی تاہم بعد میں چیف منسٹر کے سی آر نے حیدرآبادو رنگا ریڈی کو چھوڑ کر امتحانات کے انعقاد سے اتفاق نہیں کیا اور ساری ریاست میں امتحانات کو ایک بار پھر ملتوی کردیا گیا ہے ۔