ایشیا کی پہلی خاتون بس ڈرائیور نے شال پہنا کر راہول کا استقبال کیا

,

   

کنیا کماری:راہول گاندھی کی قیادت میں ’بھارت جوڑو یاترا‘ پورے جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔ اس درمیان ایک تصویر سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہی ہے جس میں ایک خاتون لال ساڑی پہنے ہوئی ہے اور ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے قائد راہول گاندھی کو شال پہنا کر ان کا استقبال کرتی ہے۔ راہول گاندھی خاتون سے مخلصانہ انداز میں ملتے ہیں اور بات چیت کرتے ہوئے کچھ قدم ان کے ساتھ چلتے ہیں۔ اس خاتون کا نام ایم. وسنت کماری ہے اور وہ ایشیا کی پہلی خاتون بس ڈرائیور ہیں۔ ایم. وسنت کماری کی عمر ابھی 63 سال ہے۔ آج کی نسل کے لیے وہ ایک مثال ہیں۔ 14 سال کی عمر میں وسنت کماری نے بس کا اسٹیرنگ سنبھالا تھا۔ گھر چلانے کے لیے انھوں نے بس ڈرائیونگ کو اپنا پیشہ بنا لیا۔ بچپن میں ہی ان کی ماں کا انتقال ہو گیا تھا اور والد نے دوسری شادی کر لی۔ پھر وسنت کماری کی پرورش ان کی موسی نے کی۔ ایسے وقت میں مالی حالت کو بہتر بنانے کے لیے ہی وسنت کماری نے بس ڈرائیونگ کا پیشہ اختیار کیا تھا۔ 19 سال کی عمر میں ان کی ایک ایسے شخص سے شادی کر دی گئی جس کی پہلے سے چار بیٹیاں تھیں۔ ان کے دو بچے ہوئے تو گھر چلانا مزید مشکل ہو گیا۔جان پہچان کے لوگوں نے انھیں بس ڈرائیور کی ملازمت کے لیے درخواست کرنے کی صلاح دی، کیونکہ وہاں خواتین کے لیے ریزرویشن تھا۔ مشکلات کے بعد آخر کار انھیں لائسنس بھی مل گیا۔ حالانکہ وہ کئی بار ناکام ہوئی تھیں۔ 30 مارچ 1993 کو تمل ناڈو اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے انھیں ملازمت پر رکھ لیا اور اپریل 2017 میں وہ سبکدوش ہوئیں۔ انھیں ’وومن اچیور ایوارڈ‘ بھی مل چکا ہے۔