ایل آر ایس اسکیم میں دیہی علاقوں سے توقع کے مطابق ردعمل نہیں

   

سب سے زیادہ ضلع رنگاریڈی اور سب سے کم ضلع آصف آباد سے درخواستیں وصول ، 15 اکٹوبر درخواستیں داخل کرنے کی آخری تاریخ
حیدرآباد :۔ حکومت نے بڑی امیدوں سے غیر مجاز لے آوٹس اور پلاٹس کو باقاعدہ بنانے کے لیے ایل آر ایس اسکیم کو متعارف کرایا جس پر توقع کے مطابق عوام کا ردعمل نظر نہیں آرہا ہے ۔ درخواستوں کے ادخال کے لیے مہلت ختم ہونے کے قریب ہے لیکن گرام پنچایتوں میں ایک لاکھ درخواستیں بھی وصول نہیں ہوئیں ۔ محکمہ پنچایت راج نے دیہی علاقوں میں 10 لاکھ درخواستیں وصول ہونے کی امید کررہے تھے ۔ لیکن عوام کا حوصلہ افزاء ردعمل حاصل نہ ہونے پر عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے نیا طریقہ اپنایا ہے ۔ پلاٹس اور لے آوٹس کو باقاعدہ نہ بنانے پر مستقبل میں دشواریاں پیدا ہونے کا انتباہ دیا جارہا ہے ۔ پنچایت سکریٹریز کی جانب سے اراضی کے مالکان کو ایل آر ایس اسکیم کے بارے میں شعور بیدار کررہے ہیں ۔ دوسرے علاقوں میں رہنے والوں کو فون کر کے انہیں اراضیات کو باقاعدہ بنانے کی ہدایت دے رہے ہیں اور آخری تاریخ 15 اکٹوبر سے قبل اپنی اراضیات کو باقاعدہ بنانے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ اراضیات کو باقاعدہ بنانے کے لیے ریاستی حکومت نے 31 اگست کو احکامات جاری کئے ۔ 26 اگست سے قبل رجسٹریشن ہونے والی تمام اراضیات کو اس اسکیم کے لیے اہل قرار دیا گیا اور اسی دن سے تمام رجسٹریشن کو بند کردینے کا اعلان کیا ۔ اس سلسلہ میں حکومت نے جی او 131 بھی جاری کیا اور اراضیات کے لیے ایل آر ایس کو لازمی قرار دیا ۔ اراضیات کو باقاعدہ نہ بنانے کی صورت میں مکانات کی تعمیرات کی بھی اجازت نہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اس شرط پر زیادہ درخواستیں وصول ہونے کی حکومت نے توقع کی تھی ۔ پہلی مرتبہ حکومت نے گرام پنچایت کے حدود میں خریدی گئی اراضیات کو بھی اس اسکیم میں شامل کیا تھا اور یہی توقع کی تھی سرکاری خزانہ کو زبردست آمدنی ہوگی ۔ اب تک وصول ہوئے درخواستوں کا جائزہ لیں تو عوام کی جانب سے توقع کے مطابق ردعمل حاصل نہ ہونے کا درخواستوں کے اعداد و شمار سے اندازہ ہورہا ہے ۔ پیر کی شام تک گرام پنچایتوں کے حدود سے 94,886 درخواستیں وصول ہوئی تھیں جب کہ حکومت کو توقع تھی اضلاع اور منڈلوں کے تشکیل جدید کے بعد 10 لاکھ درخواستیں وصول ہوں گی ۔ گرام پنچایت کے حدود سے جو درخواست وصول ہیں اس سے 10.3 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے ۔ پلاٹ اونر ہے تو 1000 لے آوٹ مالک ہو تو 10 ہزار روپئے پراسیسنگ فیس مقرر کی گئی ہے جس میں پلاٹوں سے متعلق 9.74 کروڑ اور لے آوٹس سے متعلق 28.80 لاکھ کی آمدنی ہوئی ہے ۔ ریاست کے دارالحکومت کے پڑوسی اضلاع میں بڑے پیمانے پر غیر مجاز لے آوٹس ہونے کی متعلقہ اضلاع میں وصول ہونے والی درخواستوں سے اس کا پتہ چلتا ہے ۔ اضلاع کے ہیڈکوارٹرس ، میونسپل کارپوریشنس کے مواضعات میں غیر مجاز لے آوٹس ہونے کا وصول ہونے والی درخواستوں سے پتہ چل رہا ہے ۔ ابھی تک سب سے زیادہ ضلع رنگاریڈی میں 24,178 درخواستیں وصول ہوئی ۔ ضلع یادادری میں 15,467 ضلع سنگاریڈی میں 14,356 ضلع میڑچل میں 13,755 درخواستیں وصول ہوئی ۔ سب سے کم ضلع آصف آباد میں 145 ضلع محبوب آباد میں 157 ، ضلع جگتیال میں 232 ، ضلع نارائن پیٹ میں 272 ، ضلع ملگ میں 286 درخواستیں وصول ہوئی ہیں ۔۔