39 لاکھ صارفین کو سیلنڈرسبسیڈی، ماہانہ اخراجات120 کروڑ تک پہنچنے کا امکان
حیدرآباد : 9 مارچ ( سیاست نیوز) ایل پی جی گیس سیلنڈر کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کے بعد تلنگانہ حکومت پرمالی بوجھ مزید بڑھ گیا ہے ۔ ریاست میںجاری ’ مہا لکشمی اسکیم ‘ کے تحت غریب خاندانوں کو 500روپئے میں گیس سیلنڈر فراہم کیا جارہا ہے لیکن 60روپئے اضافہ کے بعد سرکاری خزانے پرماہانہ اضافی بوجھ پڑھنے کا اندازہ لگایا جارہا ہے ۔ عہدیداروں کے مطابق ریاست میں اس اسکیم کے تحت تقریباً 39 لاکھ مستفیدین ہیں جن میں سے کم از کم 25 لاکھ افراد ہر ماہ سیلنڈر بک کرواتے ہیں ۔ اس حساب سے حکومت پر ہر ماہ تقریباً 100کروڑ روپئے سبسیڈی کی مدد میں ادا کرنے پڑتے ہیں ، تاہم سیلنڈر کی قیمت 60روپئے اضافہ کے بعد یہ خرچ بڑھ کر 115 سے 120کروڑ روپئے ماہانہ پہنچنے کا امکان ہے ۔ دوسری جانب اطلاعات کے مطابق ریاستی حکومت گزشتہ 5 ماہ سے سبسیڈی کی رقم مستفیدین کے کھاتوں میں جمع نہیں کراسکتی ہے ۔ مالی مشکلات کے باعث اکٹوبر 2025 سے فبروری 2026ء تک تقریباً 500کروڑ روپئے سبسیڈی بقایا بتائی جارہی ہے ۔ اس دوران ہر مستفید شخص کو تقریباً 3 سے 4 سیلنڈرس کی سبسیڈی ابھی تک موصول نہیں ہوئی ۔ واضح رہے کہ اس اسکیم کے آغاز کے وقت گھریلو گیس سیلنڈر کی قیمت تقریباً 825 روپئے تھی ۔ مرکزی حکومت کی پردھان منتری اجول یوجنا کے تحت 47.50 روپئے سبسیڈی براہ راست صارفین کے کھاتوں میں جمع کی جاتی ہے جبکہ باقی رقم ریاستی حکومت اپنی طرف سے دیتی ہے تاکہ مستفیدین کو سیلنڈر 500روپئے میں مل سکے ۔ تاہم گیس سیلنڈر کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور سبسیڈی کی ادائیگی میں تاخیر کے باعث ریاستی حکومت پر مالی دباؤ بڑھتا جارہا ہے اور ماہرین کاکہنا ہیکہ اگر قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو ریاستی خزانے پر بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے ۔2