کولکاتہ۔ 7 مارچ (یو این آئی) ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے ہفتہ کے روز گھریلو باورچی خانے کی گیس ایل پی جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس اقدام پر مرکزی حکومت کوسخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عام گھرانوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے سوالات اٹھائے ۔ کولکاتہ کے ڈورینا کراسنگ پر دھرنے کے اسٹیج سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بنرجی نے الزام لگایا کہ قیمتوں میں اضافے سے عام لوگوں اور متوسط طبقے پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ مرکزی حکومت نے جمعہ کی آدھی رات سے 14.2 کلوگرام والے گھریلو ایل پی جی سلینڈر کی قیمت میں 60 روپے کا اضافہ کر دیا ہے ، جس سے اس کی قیمت 879 روپے سے بڑھ کر 939 روپے ہو گئی ہے ۔ نظرثانی شدہ قیمتوں کا اطلاق ہفتہ سے ہو گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں بھی 114.50 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے ، جس سے فی سلنڈر قیمت 1,990 روپے تک پہنچ گئی ہے ۔ اس اضافے سے ریستورانوں اور کھانے پینے کے مراکز کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے ، جس سے باہر کھانا کھانا مزید مہنگا ہو سکتا ہے ۔قیمتوں میں یہ تبدیلی مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے ایندھن کی سپلائی میں ممکنہ کمی کے خدشات کے درمیان کی گئی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق، مرکزی حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایسنشل سروسز مینٹیننس ایکٹ (ای ایس ایم اے ) کے تحت ہنگامی دفعات کا نفاذ کیا ہے ۔بنرجی نے اس اضافے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ عوام پر پڑنے والے اثرات کا خیال کیے بغیر ایسا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ انہوں نے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے پوچھا کہ گیس کی قیمتوں میں اس طرح اضافہ کیوں کیا گیا؟ اب عام لوگ کیا کریں گے ؟ اگر قیمتیں آسمان چھونے لگیں گی، تو کنبے کھانا کیسے پکائیں گے ؟ مرکزی قیادت پر طنز کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کو اس صورتحال کا پہلے ہی اندازہ لگا لینا چاہیے تھا۔
انہوں نے مرکز میں برسرِ اقتدار نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں پہلے سے کیوں نہیں سوچا گیا؟ آپ ملک بیچنے کے بعد ہار پہن کر گھوم رہے تھے ۔ قیمتوں میں اضافے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے ممتا بنرجی نے اتوار کو شہر میں احتجاجی مارچ نکالنے کا اعلان کیا۔