ٹی آر ایس قائدین کو گورنر کی منظوری کا یقین، جاریہ ماہ اسمبلی اجلاس کا امکان
حیدرآباد۔/7 ستمبر، ( سیاست نیوز) ریاستی کابینہ کی جانب سے گورنر کوٹہ کی ایم ایل سی نشست کیلئے پی کوشک ریڈی کے نام کی سفارش کو ایک ماہ گذرنے کے باوجود گورنر ٹی سوندرا راجن کی عدم منظوری پر سیاسی حلقوں میں مختلف رائے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ عام طور پر حکومت کی سفارش کو گورنر کی جانب سے نامنظور نہیں کیا جاتا لیکن ایک ماہ گذرنے کے باوجود گورنر نے کوشک ریڈی کی فائیل کو منظوری نہیں دی ہے۔ یکم اگسٹ کو ریاستی کابینہ کے اجلاس میں کوشک ریڈی کے نام کی منظوری دیتے ہوئے فائیل گورنر کو روانہ کی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی قائدین کی جانب سے کوشک ریڈی کے خلاف مقدمات کی تفصیلات گورنر کو پیش کی گئیں جس کے بعد گورنر نے فائیل کو معرض التواء میں رکھ دیا۔گورنر نے فائیل کے سلسلہ میں حکومت کو کوئی اعتراض تحریری طور پر روانہ نہیں کیا جس کے نتیجہ میں برسراقتدار پارٹی قائدین پُرامید ہیں کہ گورنر جاریہ ماہ کے اواخر تک کوشک ریڈی کے نام کو منظوری دیں گی۔ کوشک ریڈی کے نام کی تجویز کے ساتھ ہی حضورآباد کے ٹی آر ایس قائدین میں ناراضگی پیدا ہوگئی کیونکہ کانگریس سے شمولیت اختیار کرنے والے قائد کو 10 دن میں ایم ایل سی کی نشست بطور تحفہ پیش کردی گئی۔ ذرائع کے مطابق حکومت ستمبر کے تیسرے ہفتہ میں اسمبلی اجلاس طلب کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ امکان ہے کہ اسمبلی اجلاس سے قبل گورنر ایم ایل سی نشست کو منظوری دے دینگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دستور کی دفعہ 163 کے تحت گورنر ریاستی کابینہ کی سفارشات کو قبول کرنے کیلئے پابند ہیں۔ دوسری طرف ٹی آر ایس قائدین کا ماننا ہے کہ گورنر کو اگر کوشک ریڈی کے نام پر اعتراض ہوتا تو وہ حکومت کو تحریری طور پر واقف کراتیں لیکن اس معاملہ میں ایسا نہیں ہوا۔ گورنر پوڈوچیری کے لیفٹننٹ گورنر کی حیثیت سے اضافی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں اس کے علاوہ حال ہی میں گورنر کی والدہ کا دیہانت ہوا لہذا ہوسکتا ہے کہ مصروفیات کے سبب گورنر نے کوشک ریڈی کی فائیل کو منظوری نہیں دی ہے۔R