اینگلو۔ انڈینس کیلئے پارلیمنٹ و اسمبلیوں میں تحفظات ختم !

   

حیدرآباد۔ 22 ڈسمبر (سیاست نیوز)جب انگریز ہندوستان کو چھوڑ کر چلے گئے تو اینگلو ۔انڈینس نے اس کو دھوکہ محسوس کیا، انہیں آزاد مملکت میں یہ خوف تھا کہ ان کے ساتھ کوئی بدلہ لیا جائے گا اور ان کو دی جانے والی معمولی مراعات کو بند کردیا جائے گا جو انہیں نوآبادیاتی حکمرانی میں حاصل تھیں۔ 72 سال بعد ملک کے اینگلو ۔انڈینس کو دوسری مرتبہ دھوکہ کا احساس اس وقت ہورہا ہے جب حکومت نے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں اینگلو۔ انڈین ارکان کے لئے محفوظ نامزد نشستوں کو ختم کرنے کا گزشتہ ہفتہ فیصلہ کیا۔ دستور کے 126 ویں ترمیمی بل کے ذریعہ 12 ڈسمبر کو پارلیمنٹ میں منظور کئے گئے اینگلو ۔انڈینس ارکان کو نامزد کرنے کے طریقہ کار کو ختم کردیا گیا جس پر 25 جنوری 2020ء سے عمل ہوگا۔ موجودہ 17 ویں لوک سبھا میں 2 محفوظ نشستیں مخلوعہ ہیں کیونکہ حکومت نے کسی کو نامزد نہیں کیا ہے۔ اس وقت 13 ریاستی اسمبلیوں میں ایک نامزد اینگلو۔ انڈین رکن اسمبلی موجود ہے۔ انتہائی چھوٹی اقلیت کو حاشیہ بردار کرنے کا اندیشہ ہے اور یہ اندیشہ اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب تازہ ترمیم کے ذریعہ شہریت قانون سے کسی طبقہ کو خارج کرنے کا نظریہ متعارف کیا گیا ہے جس کے خلاف ہندوستان بھر میں عوام سڑکوں پر نکل کر احتجاج کررہے ہیں اور اس نظریہ کو متعارف کرنے پر مرکزی حکومت کی مذمت کی جارہی ہے۔ اس طرح ملک بھر میں شہریوں کی فہرست یعنی این آر سی کی تجویز کی بھی مخالفت کی جارہی ہے۔ اینگلو۔ انڈین اس مسئلہ کی پرامن یکسوئی چاہتے ہیں۔ آل انڈیا اینگلو۔ انڈین اسوسی ایشن نے وزیراعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کابینہ کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی ہے۔ (باقی سلسلہ صفحہ 8 پر )۔