این آر سی اور شہریت قانون پر شعور بیداری سے عوام خوفزدہ

   

ک1974 کے دستاویزات حاصل کرنے تعلیمی اداروں کے چکر ، روزانہ متعدد درخواستوں کی وصولی
حیدرآباد۔16 ڈسمبر(سیاست نیوز) این آر سی اور شہریت ترمیم قانون کے متعلق شعور بیداری سے عوام میں خوف پیدا ہونے لگا ہے اور وہ اپنے 1974کے دستاویزات کے لئے اسکولوں کے چکر لگانے لگے ہیں۔ شہر حیدرآباد کے عوام میں پائی جانے والی اس بے چینی کا اندازہ آج اس وقت ہوا جب شہر حیدرآباد کے ایک قدیم اسکول سے دو بھائی رجوع ہوئے اور ان کے تعلیمی دستاویزات طلب کرنے لگے ۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر کے بیشتر قدیم سرکاری اسکولوں میں روزانہ ایسی 10-12 درخواستیں موصول ہونے لگی ہیں جن میں شہری اپنے تعلیمی دستاویزات کے حصول کی کوشش کررہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں کہ طلب کئے جانے پر ان کے پاس دستاویزات موجود رہیں۔ ملک بھر میں این آر سی اور شہریت ترمیم بل کے خلاف احتجاج جاری ہے اور پرانے شہر میں خوف میں مبتلاء شہریو ںکی جانب سے دستاویزات جمع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ شہریو ںمیں پیدا ہونے والے ہراس کا اندازہ کرنے کیلئے کافی ہے۔ محکمہ تعلیم کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس طرح کی درخواستوں کی وصولی پر وہ اسکول کے صدر مدرسین سے رابطہ کرتے ہوئے موجود دستاویزات جاری کرنے کی ہدایت دے رہے ہیں لیکن بیشتر اسکولوں سے رجوع ہونے والوں میں ایسے بھی افراد شامل ہیں جن کے تعلیمی صداقت ناموں میں تاریخ پیدائش کا درست اندراج نہیں ہے اور وہ اب اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کی تاریخ پیدائش درست کی جائے جو کہ ایک مشکل کام ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ 1974اور اس کے بعد پیدا ہونے والے کئی شہری اپنے اسکولوں سے رجوع ہوتے ہوئے تعلیمی اسناد میں نام اور تاریخ پیدائش کے علاوہ دیگر معلومات کو درست کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جس سے شہر کے کئی سرکاری اسکولوں کے صدر مدرسین پریشان ہیں لیکن محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کی جانب سے انہیں ہدایت دی جا رہی ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کریں جو خوف و ہراس کے عالم میں اسکول سے رجوع ہوتے ہوئے اپنے دستاویزات کو درست کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ اب تک صرف زبانی ہدایات دی جا رہی ہیں لیکن ضرورت پڑنے پر تحریری ہدایات بھی جاری کی جاسکتی ہیں لیکن محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا کہناہے کہ ان کے اپنے دستاویزات میں بھی وہ تصحیح نہیں کرسکتے اسی لئے ان امور کا خصوصی خیال رکھتے ہوئے ممکنہ حد تک شہریوں کی مدد کی جا رہی ہے اور انہیں ان کے تعلیمی صداقتناموں کے نقول بھی جاری کئے جا رہے ہیں مگر ان میں تصحیح کے مطالبہ کو پورانہیں کیا جاسکتا۔