این آر سی اور این پی آر پر کے سی آر موقف واضح کریں: محمد علی شبیر

   

جگن حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم، ٹی آر ایس کی حلیف جماعت مجلس کی خاموشی پر تنقید
حیدرآباد۔ 31 جنوری (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر لیڈر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ این آر سی اور این پی آر پر حکومت کے موقف کو واضح کریں۔ جگن موہن ریڈی حکومت کی جانب سے این آر سی اور این پی آر کی مخالفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر کو جگن کی تقلید کرتے ہوئے اقلیتوں سے ہمدردی کے دعوے کو درست ثابت کرنا چاہئے۔ ہر معاملے میں کے سی آر جگن کی تقلید کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ سیاسی اعتبار سے کے سی آر سے کافی کم عمر ہیں۔ اقلیتوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے جگن نے نہ صرف شہریت قانون بلکہ این آر سی اور این پی آر کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے۔ پارلیمنٹ میں وائی ایس آر کانگریس نے شہریت قانون کی تائید کی تھی لیکن ملک بھر میں سیکولر جماعتوں اور طلبہ کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے جگن نے غیر دستوری سیاہ قوانین کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر کو اقلیتوں کے ووٹ کی ضرورت ہے لیکن انہیں اقلیتوں کے جذبات کا کوئی پاس و لحاظ نہیں۔ مسلم مذہبی قائدین سے 25 ڈسمبر کو ملاقات کے وقت کے سی آر نے اندرون دو یوم موقف کے اعلان کا تیقن دیا تھا لیکن بلدی انتخابات میں مخصوص ووٹ بینک سے محرومی کے خوف سے انہوں نے ایک ماہ تک خاموشی اختیار کرلی۔ نتائج کے فوری بعد شہریت قانون کے خلاف اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کا اعلان کیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے شہریت قانون سے زیادہ خطرناک این آر سی اور این پی آر ہے لیکن ان دونوں کے بارے میں کے سی آر نے ابھی تک اپنی خاموشی نہیں توڑی۔ سرکاری سطح پر این پی آر پر عمل آوری کے لیے عہدیداروں کی تربیت کا آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کا سکیولرازم کا دعوی محض دکھاوا اور کھوکھلا ہے۔ وہ بی جے پی سے اختلاف نہیں کرسکتے۔ گزشتہ چھ برسوں میں کے سی آر نے مرکزی حکومت کے ہر فیصلے کی تائید کی جن میں نوٹ بندی، جی ایس ٹی، طلاق ثلاثہ، دفعہ 370 کی برخواستگی، صدر جمہوریہ اور نائب صدر کا انتخاب شامل ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر اور بی جے پی میں خفیہ مفاہمت ہے لہٰذا وہ مرکز کے فیصلوں کے خلاف موقف اختیار نہیں کرسکتے۔ انہوں نے حکومت کی حلیف جماعت مجلس کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مسلمانوں اور سکیولر طاقتوں کو احتجاج سے روکنے کے لیے مختلف سازشیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محض شہریت قانون کی مخالفت کے اعلان سے تلنگانہ میں عوامی احتجاج تھمنے والا نہیں ہے۔ ٹی آر ایس اور اس کی حلیف جماعت عوام کو گمراہ کرتے ہوئے احتجاج سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ پرامن احتجاج کے لیے پولیس کی جانب سے اجازت سے انکار کیا جارہا ہے۔ اچانک احتجاج کرنے پر پولیس مقدمات درج کررہی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ موجودہ حالات پر وزیر داخلہ محمود علی کی خاموشی معنی خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم تنظیموں سے ملاقات سے نہ صرف انکار کردیا بلکہ گرفتاریوں کے بارے میں پولیس عہدیداروں سے بات چیت تک نہیں کی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر نے محمود علی کو اختیارات کے بغیر وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز کیا تاکہ مسلمانوں کو خوش کیا جاسکے۔ انہوں نے وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ وہ گرفتاریوں اور مقدمات کے سلسلہ میں پولیس کو ہدایات جاری کریں تاکہ جمہوری انداز میں سیاہ قوانین کے خلاف احتجاج جاری رہے۔ مختلف تنظیموں کو احتجاج کی اجازت کے سلسلہ میں وزیر داخلہ کو مداخلت کرنی چاہئے۔