این آر سی و این پی آر کے خلاف اے پی اسمبلی میں قرارداد کی منظوری

,

   

نئی شرائط سے مسلمانوں میں تشویش، ڈپٹی چیف منسٹر امجد باشاہ کا بیان
حیدرآباد۔ 18 جون (سیاست نیوز) آندھراپردیش کی جگن موہن ریڈی حکومت نے اسمبلی میں این پی آر اور این آر سی کے خلاف قرارداد منظور کی ۔ حکومت نے کہا کہ مردم شماری 2010 کے طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہئے۔ این پی آر کے نام پر شرائط میں اضافے کی مخالفت کی گئی۔ جگن حکومت نے کہا کہ وہ این آر سی اور این پی آر کے بارے میں سابق میں معلنہ موقف پر قائم ہے۔ حکومت ہند کی جانب سے نئے این پی آر کے اعلان اور اس میں شامل امور سے مسلمانوں میں تشویش ہے۔ لہٰذا 2010ء فارمیٹ کے مطابق این پی آر پر عمل کیا جائے۔ ڈپٹی چیف منسٹر امجد باشاہ نے اسمبلی میں قرارداد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر جگن موہن ریڈی نے واضح کیا کہ آندھراپردیش میں این آر سی اور این پی آر پر ہرگز عمل نہیں کیا جائے گا۔ این پی آر میاں بعض نئے سوالات شامل کئے گئے جس سے مسلمان خوفزدہ ہیں۔ والدین کے بارے میں تفصیلات، تاریخ پیدائش و مقام پیدائش کے علاوہ مادری زبان سے متعلق قابل اعتراض سوالات ہیں۔ 2010ء میں این پی آر پر عمل کیا گیا۔ اسی فارمیٹ میں مردم شماری کا کام انجام دیا جائے۔ 2010فارمیٹ سے این پی آر پر عمل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ 4 مارچ کو کابینہ کے اجلاس میں این پی آر و این آر سی کے خلاف قرارداد منظور کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جگن حکومت کے فیصلے سے مسلمانوں میں اعتماد بحال ہوا ہے۔