ایڈوکیٹس کو ترجیحی بنیادوں پر کووڈ ویکسین

   

حکومت سے ہائی کورٹ کا سوال، آج دوبارہ سماعت
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے سوال کیا ہے کہ آیا کورونا ویکسین ترجیحی بنیادوں پر ایڈوکیٹس اور کورٹ اسٹاف کو دی جائے گی ؟ جسٹس راج شیکھر ریڈی اور جسٹس وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے حکومت کو جواب داخل کرنے کیلئے جمعہ تک کا وقت دیا ہے۔ ایڈوکیٹ پی اشوک گوڑ کی جانب سے روانہ کردہ مکتوب کو مفاد عامہ کی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے عدالت نے نوٹس جاری کی ہے۔ ایڈوکیٹ نے اپنے مکتوب میں وکلاء کے تحفظ کے بارے میں اندیشوں کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈوکیٹس مختلف مقدمات کے سلسلہ میں ایک کورٹ ہال سے دوسرے کورٹ ہال جاتے ہیں اور ایسے میں وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ کورٹ اسٹاف کو بھی وائرس سے بچاؤ کے لئے چوکسی کی ضرورت ہے۔ ریاستی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کورونا ویکسین کی ٹیکہ اندازی کے سلسلہ میں مرکزی حکومت کے رہنمایانہ خطوط پر عمل کیا جائے گا ۔ تاہم انہوں نے عدالت میں جواب داخل کرنے کیلئے چار ہفتوں کا وقت مانگا ہے ۔ ڈیویژن بنچ نے کہا کہ اس مسئلہ پر موقف کی وضاحت کیلئے دو دن کافی ہے ، لہذا جمعہ تک حکومت کو اپنا جواب داخل کرنا چاہئے ۔ ججس نے مقدمہ میں مرکزی حکومت کو فریق بنانے سے اتفاق کیا۔ آئندہ سماعت جمعہ تک ملتوی کی گئی ۔