کے سی آر خاندان سے عوام مایوس، 9 ڈسمبر کو کانگریس حکومت کی حلف برداری
حیدرآباد۔/15 نومبر، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے تلنگانہ میں 9 ڈسمبر کو کانگریس حکومت کی تشکیل کا دعویٰ کرتے ہوئے عوام کو نعرہ دیا کہ ’’ ایک اور دھکہ۔ کانگریس پکا ‘‘۔ ریونت ریڈی نے آج کانگریس کی انتخابی مہم کے سلسلہ میں اسمبلی حلقہ جات بوتھ، نرمل اور جنگاؤں میں عام جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے بی آر ایس اور بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ شکست کے خوف سے کے سی آر نے بی جے پی کی مدد سے سازش تیار کی ہے تاکہ کانگریس کو برسراقتدار آنے سے روکا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام نے کانگریس کو برسراقتدار لاتے ہوئے اندراماں راج کے قیام کا فیصلہ کرلیا ہے اور دونوں پارٹیوں کیلئے کانگریس کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ ریونت ریڈی نے کانگریس کی 6 ضمانتوں پر عمل آوری کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک کی طرح کابینہ کے پہلے اجلاس میں 6 ضمانتوں پر عمل آوری کا فیصلہ کیا جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ چھ ضمانتوں سے کے سی آر خوفزدہ ہیں اور انہوں نے شکست کو تسلیم کرلیا ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس نے 12 نشستیں لمباڑہ اور آدی واسی طبقات کیلئے مختص کی ہیں۔ بی آر ایس نے آدی واسی طبقات میں پھوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام طبقات کی یکساں ترقی صرف کانگریس سے ممکن ہے۔ گذشتہ دس برسوں میں کے سی آر نے تمام طبقات کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسراقتدار آتے ہی نرمل کا ماسٹر پلان منسوخ کردیا جائے گا تاکہ عوام کی اراضیات کا تحفظ ہو۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ نرمل سے ریاستی وزیر اندرا کرن ریڈی کو شکست سے دوچار کریں تاکہ نرمل میں ترقی اور فلاح و بہبود کے نئے دور کا آغاز ہو۔ ریونت ریڈی نے کانگریس برسر اقتدار آنے پر عادل آباد ضلع کو ترقی دینے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی نے نوجوانوں کی قربانیوں کا احترام کرتے ہوئے نئی ریاست تشکیل دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کو مفت برقی کی سربراہی کانگریس کی اسکیم ہے اور برسراقتدار آنے پر یہ اسکیم جاری رہے گی۔ انہوں نے کے سی آر کو چیلنج کیا کہ وہ زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے برقی سربراہی ثابت کریں اور کانگریس اپنے امیدواروں کو مقابلہ سے دستبردار کرنے کیلئے تیار ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر خاندان نے ریاست کے عوام کو لوٹ لیا ہے اور علحدہ ریاست میں عوام سے زیادہ کے سی آر خاندان کو فائدہ پہنچا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ جنگاؤں روایتی طور پر کانگریس کا گڑھ ہے اور بعض قائدین کے استعفی دینے سے کانگریس کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ انہوں نے پونالہ لکشمیا کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عوامی مسائل کی یکسوئی کے بجائے پونالہ لکشمیا امریکہ میں قیام کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔