حافظ سید محمد عطاء الحق کریمی شاہ آمری کا خطاب
حیدرآباد ۲۱؍نومبر(راست) پیر طریقت حضرت العلامہ حافظ سید محمد عطاء الحق کریمی شاہ آمری (ٹملناڈو، مدراس) نے جامعۃ المؤمنات میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دور حاضر میں مسلم لڑکیوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ علم دین حاصل کریں،کیونکہ ایک عورت کا تعلیم یافتہ ہونا ایک نسل کا تعلیم یافتہ ہونا ہے،ماں کی گود اولاد کے حق میں پہلی درسگاہ ہے،ماں دیندار ہوگی تو وہ اپنے بچہ کی تربیت سنت رسول ﷺ کے مطابق کریگی اور اسکا مستقبل روشن ہوگا اور وہ ایک بہترین شہری کہلائیگا۔ ایک عورت کی سدھار ایک معاشرہ کی سدھار ہے، وہ حضرت خدیجہ، حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت خاتون جنت رضی اللہ عنہن اور دیگر صحابیات کی سیرت کو اپنا مظہر بنائیں کہ اِنہیں دیکھ کر ان مقدس ہستیوں کی یاد آجائے۔ان کی طرح اپنی زندگی بسر کریں یقینا اسلام پر چلنے والی خاتون ایسی دیندار کہلاتی ہیں۔مولانا نے امام بخاری رحمۃاللہ علیہ کی سیرت کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کے بعد اگر کوئی کتاب کا درجہ ہے تو وہ بخاری شریف کا ہے۔آپ نے بڑی محنت و مشقت اور احتیاط کے ساتھ صحیح احادیث رسول ﷺ کو جمع کئے،اور آپ کا طرز تحریر یہ تھا کہ جب ایک ایک حدیث مبارک تحریر فرماتے تو پہلے غسل کیا کرتے اوردو رکعت نفل نماز ادا کرتے تھے، تو اس میں جتنی احادیث ہیں اتنی بار آپ نے غسل فرمایا اور کہا کہ بخاری شریف کا اصل نام ’’الجامع المستند الصحیح مختصر من رسول ﷺ‘‘ہے۔ اور کہا کہ حضرت امام بخاری رحمۃاللہ علیہ کی زندگی میں سنت رسول ﷺ کی عملی جھلکیاں نظر آتی ہیں آپ نے بخاری شریف کا آغاز نماز، روزہ، زکوۃ، حج، طہارت سے نہیں کیا بلکہ نیت سے کیا کیونکہ تمام اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔ اسی لئے درس حدیث دینے والے اساتذہ کرام پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خود کو سنت رسول ﷺ کا پیکر بنائیں اور درس دینے سے قبل کتب احادیث کا اچھا مطالعہ کریں ۔جلسہ کی صدارت امیر شریعت مفتی محمد حسن الدین صدر مفتی نے کی۔ ڈاکٹر مفتی حافظ محمد مستان علی قادری ناظم اعلیٰ جامعۃالمؤمنات نے خیر مقدم کیا۔ جلسہ کا آغاز حافظہ و قاریہ معجونی خاتون کی قرأت اور مفتیہ حافظہ رمیصاء افشین کی نعت شریف سے ہوا۔ حافظ محمد صابر پاشاہ قادری، مفتی ایس ایم سراج الدین ، مولانا سید خضر پاشاہ ،حافظ شیخ معین الدین آمری،مفتی عبدالرحیم قادری ،مفتی ریاض اشرفی ،مفتی محمد غوث عادل، مفتی شیخ عابد علی ،مفتی حافظ محمد عمران ،حافظ محمد شریف ، حافظ محمدشہباز نقشبندی ،مفتی غلام ربانی خان ،مولوی فراز الدین،مولوی محمد طاہر،مولوی وسیم عارف،مولوی سید الاسلام، مولوی حافظ مرزا غلام علی بیگ،مولوی زید الاسلام نے شرکت کی۔مفتی محمد حسن الدین کی دعا پر جلسہ کا اختتام عمل میں لایا گیا۔