شہری علاقوں میں 18 فیصد شرح بیروزگاری ، سی ایم ای آئی سروے میں انکشاف
حیدرآباد :۔ کورونا کی دوسری لہر اور مختلف ریاستوں میں لاک ڈاؤن کا ملازمتوں پر اثر پڑا ہے گذشتہ چار ماہ سے لوگ مسلسل روزگار سے محروم ہو رہے ہیں تاہم صرف ماہ مئی کے دوران 1.5 کروڑ افراد روزگار سے محروم ہوگئے ہیں ۔ سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی
(CMIE)
کے تازہ ڈاٹا کے مطابق گذشتہ 30 مئی تک شہری علاقوں میں سالانہ شرح بیروزگاری 18 فیصد تک پہونچ گئی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ماہ میں 1.53 کروڑ لوگ روزگار سے محروم ہوگئے ۔ جس کی تفصیلات سی ایم آئی ای کے منیجنگ ڈائرکٹر مہیش ویاس کمپنی نے کے ویب سائیٹ پر پیش کی ہے ۔ سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی کے سروے میں پتہ چلا ہے کہ یومیہ مزدوری پر لاک ڈاؤن کا زیادہ اثر پڑا ۔ تاہم دیہی علاقوں میں شرح بیروزگاری کسی قدر گھٹی ہے ۔ 23 مئی تک دیہی علاقوں میں بیروزگاری شرح 13.5 فیصد تھی جو اب 9.6 فیصد ہوگئی ہے ۔ گذشتہ چار ماہ سے شرح بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ اپریل اور مئی میں لوگ بہت زیادہ بیروزگار ہوئے جاریہ سال جنوری تک جملہ ملازمین کی تعداد 40.07 کروڑ تھی جو مئی کے اواخر تک گھٹ کر 37.55 کروڑ تک پہونچ گئی ۔ جاریہ سال تاحال 2.53 کروڑ عوام روزگار سے محروم ہوگئے ۔ صرف دو ماہ میں 2.27 کروڑ لوگ روزگار سے محروم ہوگئے ۔ مشہور معاشی مشیر کے وی سبرامنین نے کورونا کی وجہ سے بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا ہے کہ کورونا کا اثر کم ہونے کے بعد آئندہ چار ماہ میں شرح روزگار میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔