’ایک ہیں تو سیف ہیں‘ کیاممبئی کی قسمت نشانے پر ہے؟

,

   

راہول گاندھی نے پوسٹر نکال کر لوگوں کو نعرے کا مطلب سمجھایا
ممبئی : راہول گاندھی وزیر اعظم نریندر مودی کی غلط پالیسیوں اور بیان بازی پر انہیں لگاتار نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس دوران راہول نے ایک بار پھر وزیراعظم مودی پر سیدھے تنقید کی ہے۔ انہوں نے مودی کے انتخابی نعرے ‘ایک ہیں تو سیف ہیں’ کو لے کر بی جے پی کو گھیرتے ہوئے اس کا سیدھا تعلق دھاراوی پراجکٹ میں صنعت کار گوتم اڈانی سے جوڑتے ہوئے لوگوں کو حقیقت سمجھانے کی کوشش کی ہے۔راہول گاندھی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران تجوری کھولی اور اس میں سے پوسٹر نکال کر لہرانا شروع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھاراوی کا مستقبل محفوظ نہیں ہے اور سوال یہ ہے کہ محفوظ کون ہے؟ اس پراجکٹ سے دھاراوی کے عوام کو نقصان ہوگا۔ راہول نے تجوری سے دو پوسٹر نکالے جس میں ایک پوسٹر میں گوتم اڈانی اور وزیر اعظم مودی کی تصویر تھی جبکہ دوسرے پوسٹر میں دھاراوی کا نقشہ بنا تھا۔ انہوں نے مودی اور اڈانی کی تصویر دکھا کر دھاراوی پراجکٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ نعرے کا مطلب ہے ممبئی کی قسمت نشانے پر ہے۔اس موقع پر راہول گاندھی نے کہا کہ مہاراشٹرا انتخاب نظریات کا انتخاب ہے اور یہ 2۔1 ارب پتیوں اور غریبوں کے بیچ کا انتخاب ہے۔ ارب پتی چاہتے ہیں کہ ممبئی کی زمین ان کے ہاتھ میں آ جائے۔ اندازہ ہے کہ 1 ارب پتی کو 1 لاکھ کروڑ روپے دیئے جائیں گے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ ہماری سوچ ہے کہ مہاراشٹر ا میں، مہاراشٹرا کے کسانوں کو، غریبوں، کو بے روزگاروں کو، نوجوانوں کو مدد کی ضرورت ہے۔ ہم ہر خاتون کے بینک کھاتے میں 3000 روپے جمع کریں گے۔ خواتین اور کسانوں کیلئے بس کا سفر مفت ہوگا۔ 3 لاکھ روپے تک کا قرض معاف کیا جائے گا۔ سویابین کیلئے 7000 روپے فی کوئنٹل ایم ایس پی دی جائے گی۔ ابھی ہم تلنگانہ، کرناٹک میں ذات پر مبنی گنتی کروا رہے ہیں اور ہم مہاراشٹرا میں بھی کرائیں گے۔راہول گاندھی نے کہا کہ دھاراوی پراجکٹ نامناسب ہے اور یہ صرف ایک شخص کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ٹنڈر عمل کیسے شروع کیا جا رہا ہے، صرف ایک شخص کو ہندوستان کے سبھی بندرگاہ، ایئرپورٹ اور پیسہ دیا جا رہا ہے۔ ہمیں اس پر اعتراض ہے۔ سبھی پراجکٹ مہاراشٹرا سے چھین کر دوسروں کو دے دیے گئے ہیں۔ کْل 7 لاکھ کروڑ کے پراجکٹ اور 5 لاکھ نوکریاں آپ سے چھین لی جاتی ہیں۔