اسمبلی حلقہ جات نامپلی اور یاقوت پورہ کے نتائج پر عوام میں زبردست تجسس
حیدرآباد۔/2ڈسمبر، ( سیاست نیوز) گذشتہ اسمبلی انتخابات میں 7 اسمبلی حلقوں میں کامیابی حاصل کرنے والی مجلس اس مرتبہ بھی ان حلقوں پر دوبارہ کامیابی حاصل کرنے کا صدر مجلس اسد الدین اویسی دعویٰ کررہے ہیں مگر مجلس کے کیڈر کو ہی اس پر بھروسہ نہیں ہے۔ ایگزٹ پول کے نتائج میں مجلس 5 تا 6 حلقوں تک محدود ہونے کے اشارے ملنے کے بعد صدر مجلس کے دعویٰ پر اتفاق رائے اور اختلاف رائے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اسمبلی حلقہ جات نامپلی اور یاقوت پورہ کے نتائج پر عوام کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔ 2018 اسمبلی حلقوں کے انتخابات میں مجلس نے 7 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کی تھی اس مرتبہ 2023 کے انتخابات میں موجودہ 7 اسمبلی حلقوں کے ساتھ راجندر نگر اور جوبلی ہلز حلقوں سے بھی مجلس مقابلہ کررہی ہے۔ مزید دو حلقوں کا اضافہ کرنے کی حکمت عملی میں مجلس کہیں دو یا تین حلقوں سے محروم نہ ہوجائے اس پر عوام میں تجسس پایا جاتا ہے کیونکہ اس مرتبہ اسمبلی حلقہ نامپلی پر کانگریس کے امیدوار فیروز خان ، اسمبلی حلقہ یاقوت پورہ پر مجلس بچاؤ تحریک کے امیدوار امجد اللہ خان خالد اور اسمبلی حلقہ ملک پیٹ پر کانگریس کے امیدوار شیخ اکبر نے مجلس کے امیدواروں کو سخت مقابلہ پیش کیا ہے۔ ساتھ ہی ایگزٹ پول میں مجلس کے ایک سے دو امیدواروں کو شکست ہوجانے کی پیش قیاسی کے بعد عوام میں نتائج کو لے کر بہت زیادہ دلچسپی دیکھی جارہی ہے۔ انتخابی عمل کے آغاز کے ساتھ ہی اسمبلی حلقہ نامپلی توجہ کے مرکز میں تبدیل ہوگیا ہے۔ کانگریس نے فیروز خان کو دوبارہ امیدوار بنایا ہے مگر مجلس نے امیدوار کو تبدیل کردیا ہے۔ ابتداء سے اس حلقہ پر کانگریس کی لہر دیکھی جارہی ہے۔ دوسری جانب رائے دہی کا تناسب گھٹ جانے سے مجلس کو نقصان ہونے اور کانگریس کو فائدہ پہنچنے کی افواہیں گشت کررہی ہیں۔ اسمبلی حلقہ نامپلی کے علاوہ اسمبلی حلقہ یاقوت پورہ میں بھی مجلس کو جھٹکا لگنے کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہورہی ہے۔ انتخابات میں مجلس اور مجلس بچاؤ تحریک نے ٹکر کی انتخابی مہم چلائی ہے۔ ایم بی ٹی کیلئے ہمدردی کی لہر دیکھی جارہی ہے۔ اسمبلی حلقہ جات نامپلی اور یاقوت پورہ کے نتائج پر شہر کے عوام میں تجسس پایا جارہا ہے۔ن