ای ڈی کے چھاپے کے بعد نیشنل ہیرالڈ کے دفتر کے باہر کانگریس کا احتجاج

   

نئی دہلی: نیشنل ہیرالڈ اخبار کے دفتر سمیت تقریباً ایک درجن مقامات پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے چھاپوں کے خلاف آج بڑی تعداد میں کانگریس کارکنان دہلی کے ہیرالڈ ہاؤس میں جمع ہوئے۔ ان کارکنوں نے پوسٹر لہرائے اور مرکزی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ نیشنل ہیرالڈ اخبار سے متعلق مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں مرکزی تفتیشی ایجنسی نے کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی سے پوچھ گچھ کے چند دن بعد، ای ڈی نے آج نیشنل ہیرالڈ اخبار کے دفتر سمیت تقریباً 12 مقامات پر چھاپے مارے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی ایجنسی اس سرچ آپریشن کے بعد کیس سے متعلق جائیدادیں ضبط کرسکتی ہے کانگریس نے اس معاملے میں جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی اور بے روزگاری جیسے عام لوگوں سے جڑے مسائل پر اپوزیشن کے سوالات نے حکومت کو بیک فٹ پر لا کھڑا کیا ہے۔ وہ ملک کے لوگوں کو جواب دینے سے قاصر ہیں، اس طرح ‘غیر آرام دہ’ سوالات پوچھنے والوں کو نیچا دکھانے اور بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کانگریس کے ترجمان سید ناصر حسین نے کہا، ’’صرف کانگریس ہی نہیں، اپوزیشن جماعتوں کے کئی لیڈروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ایسی کوششوں کے سامنے جھکنے والی نہیں ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر جے رام رمیش نے ٹویٹ کیا، “بہادر شاہ ظفر مارک پر واقع ہیرالڈ ہاؤس پر چھاپہ ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی – انڈین نیشنل کانگریس پر مسلسل حملے کا حصہ ہے۔ ہم انتقام کی سیاست کی سخت مذمت کرتے ہیں۔