اے پی میں 49 افراد کیخلاف توہین عدالت کا مقدمہ

   

ہائی کورٹ نے وائی ایس آر کانگریس کیخلاف ازخود کارروائی کی
امراوتی 26 مئی (پی ٹی آئی) آندھراپردیش ہائی کورٹ نے ججوں کے محرکات پر مبینہ شک و شبہات کرنے کے ضمن میں حکمراں وائی ایس آر ککانگریس پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ کے بشمول 49 افراد کے خلاف منگل کو تحقیر عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا۔ سوشیل میڈیا پوسٹ پر (ججوں کے) محرکات کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر عدالت عالیہ نے ازخود کارروائی کی۔ ہائی کورٹ کے رجسٹرار (جوڈیشیل) نے کہاکہ ’معزز ہائی کورٹ اور معزز ججوں کے خلاف برائی و بدگمانی پھیلانے کے علاوہ اس مواد میں نفرت، اہانت اور بدکلامی پر مبنی مواد بھی شامل ہے‘۔ واضح رہے کہ آندھراپردیش ہائی کورٹ نے حال ہی میں اپنے پانچ فیصلوں کا اعلان کیا تھا جس میں حکمراں (وائی ایس آر کانگریس) جماعت کے بعض ارکان کو اُلجھن و پشیمانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وشاکھاپٹنم میں معطل شدہ ڈاکٹروں کے مسئلہ پر سی بی آئی تحقیقات کے لئے آندھراپردیش ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلہ پر وائی ایس آر سی پی کے باپٹلہ رکن لوک سبھا نندی گام سریش کے مبینہ تبصروں کا عدالت عالیہ نے سخت نوٹ لیا۔ تبصرہ کے لئے ربط پیدا کئے جانے پر اس پارلیمنٹ نے جواب دیا کہ عدالت سے ہنوز کوئی نوٹس موصول نہیں ہوئی ہے۔