ڈیموکریٹ لیڈر کو درکار الیکٹورل ووٹ کے حصول سے قبل سیکرٹ سرویس متحرک ہوگئی ، کملا ہیرس کو بھی اضافی سیکوریٹی
واشنگٹن: امریکہ میں روایت ہے کہ جب کوئی امیدوار صدارتی انتخاب جیتتا ہے تو اسی رات اس کی سیکورٹی کو مضبوط کیا جاتا ہے لیکن بائیڈن کے معاملے میں سیکورٹی کو پہلے سے ہی مضبوط کر دیا گیا ہے۔امریکی صدر کون ہوگا، اس سلسلے میں تذبذب کی صورت حال ہفتہ کی صبح تک برقرار ہی، لیکن جو اشارے مل رہے تھے اس سے تقریباً طے ہوا کہ بائیڈن ہی امریکہ پر آئندہ چار سال تک حکومت کرنے والے ہیں۔ اس کا اہم اشارہ یہ رہا کہ سیکریٹ سروس اور ایف بی آئی نے ان کی سیکورٹی بڑھا دی اور ان کے رہائش گاہ کے اوپر ‘نو فلائی زون’ قرار دے دیا گیا ہے۔ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 214 کے مقابلے 290 ووٹ حاصل کرچکے بائیڈن کی سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور سیکرٹ سروس نے محاذ سنبھال لیا ہے۔اس کے ساتھ نائب صدر منتخب کملا ہیرس کی سیکوریٹی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے ۔ انہیں اعزازی کامیابی ملی ہے کیوں کہ ابھی تک کوئی خاتون نے امریکی نائب صدارت کا عہدہ نہیں سنبھالا تھا ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ وہ پہلی جنوبی ایشیائی شخصیت بھی بن گئی جو اس اعلیٰ منصب پر فائز ہونے جارہی ہیں ۔ قبل ازیں جارجیا، پنسلوینیا اور نیواڈا میں بائیڈن اور ٹرمپ کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا ، لیکن جارجیا اور پنسلوینیا میں جس طرح سے بائیڈن نے سبقت بنائی ، ان کے لیے صدر کی راہ ہموار ہوتی گئی ۔ ووٹوں کی گنتی کے درمیان جس طرح سے بائیڈن کی سیکورٹی کو پختہ کیا گیا ، اس سے یہی اشارے ملے کہ ان کے صدر بننے کے امکانات انتہائی روشن ہو گئے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سیکریٹ سروس ایجنٹس کو ڈیلاور ولمنگٹن میں ریور فرنٹ کنونشن سنٹر میں بھیجا گیا ہے جہاں بائیڈن کی ٹیم نے چیز سنٹر نام سے اپنا ہیڈکوارٹر بنایا ہوا ہے۔ انتخابی تشہیر ختم ہونے کے بعد سے ہی بائیڈن یہاں مقیم ہیں اور امکان ہے کہ نتائج کا اعلان ہونے کے بعد وہ یہیں سے اپنی فاتحانہ تقریر کریں گے۔ ویسے اس سال کے مارچ سے ہی بائیڈن کو سیکریٹ سروس کی سیکورٹی ملی ہوئی ہے، لیکن ان کی سیکورٹی میں اضافہ کیے جانے سے جو اشارہ ملا ، اس سے ان کی جیت کے آثار مضبوط نظر آئے ۔ غور طلب ہے کہ بائیڈن نائب صدر رہ چکے ہیں اور ضابطہ کے مطابق انھیں 2017 میں نائب صدر عہدہ سے ہٹنے کے بعد 6 مہینے تک سیکرٹ سروس کی سیکورٹی ملتی رہی تھی۔