بابر اعظم ہندوستان کے میچ کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے

   

لاہور۔15 اکتوبر کو ونڈے ورلڈ کپ میں ہندوستان کے ساتھ متوقع معابلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم کی توجہ صرف اپنے روایتی حریف کے خلاف میچ کھیلنے پر نہیں ہے بلکہ تمام مقابلوں پر مرکوز ہے۔ جب کہ پاکستان کو امید ہے کہ وہ1992 میں آسٹریلیا میں اپنی پہلی کامیابی میں دوسری ورلڈ کپ ٹرافی کا اضافہ کرے گا، بابر نے کہا کہ اگر ان کی ٹیم کو جیتنا ہے تو اسے چھ ہفتے کے ٹورنمنٹ کے دوران مستقل کارکردگی دکھانی ہوگی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی ریلیزکے مطابق بابر نے نامہ نگاروں کو بتایا ہم ورلڈ کپ کھیلنے جا رہے ہیں اور صرف ہندوستان کے خلاف نہیں کھیلنے جا رہے ہیں۔آٹھ اور ٹیمیں ہیں اور یہ صرف ہندوستان ہی نہیں ہے اور اگر ہم انہیں ہرا دیں گے تو ہم فائنل میں جگہ بنا لیں گے۔ ہماری توجہ صرف ایک ٹیم پر نہیں ہے، ہم ٹورنمنٹ میں دیگر تمام ٹیموں پر مرکوز ہیں۔ ہمارا منصوبہ یہ ہے کہ ہمیں ان سب کے خلاف اچھا کھیلنا ہے اور ان کے خلاف جیتنا ہے۔بابر اعظم کی قیادت میں ٹیم ورلڈ کپ کے دوران پانچ مختلف شہروں میں کھیلے گی اور 28 سالہ کھلاڑی نے کہا کہ ان کی ٹیم کو حالات میں کسی بھی تبدیلی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آپ اپنے آپ کو مختلف حالات اور ہر ماحول کے لیے تیارکرتے ہیں اور اسی کو ہم ایک چیلنج کہتے ہیں اور آپ اسے پورا کرنے کے لیے میدان میں اترتے ہیں۔ ایک کھلاڑی اورکپتان کے طور پر، میں ہر ملک میں رنز بنانے، حاوی ہونے اور پاکستان کے لیے گیمز جیتنے کی خواہش رکھتا ہوں۔ اس لیے ہمارے ذہن میں یہی ہے اور نہ صرف یہ کہ ہم ایک ٹیم کے خلاف کھیلنے جا رہے ہیں بلکہ ورلڈ کپ میں تمام ٹیموں کے خلاف کھیلنے جارہے ہیں ۔ پاکستان کے اس سال کے آخر میں ہندوستان میں 9 حریف ہیں، سری لنکا اور نیدرلینڈز زمبابوے میں ہونے والے آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر ٹورنمنٹ سے سات دیگر ٹیموں میں شامل ہونے کے لیے آگے بڑھ گئے ہیں۔