میدک میں جل شکتی ابھیان کمیٹی کا اجلاس ، ضلع کلکٹر ایس ہریش راؤ کا خطاب
میدک : میدک ضلع کلکٹر ، ایس ہریش زمین پر گرنے والا بارش کے پانی کے ہر ایک بوند کاتحفظ اور اس کے استعمال کو عام کرنے کی اہمیت اور ضرورت بتاتے ہوئے کہا کہ پانی کے تحفظ کے مقاصد سے جل شکتی ابھیان کمیٹی اجلاس کا کانفرنس حال میں بروز منگل متعلقہ 13 محکمہ جات کے عہدیداروں کے ہمراہ اجلاس کا انعقاد عمل میں لایا گیا ۔ اس موقع پر کلکٹر نے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف عہدیداروں کو پانی کے تحفظ کے لئے دیہاتوں سرکاری محکمہ جات کی عمارتوں ، اسکولس ، کالجوں اسی طرح دوسرے عمارتوں پر سے بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے چھتوں کے ٹاپ طریقہ سے تحفظ کے انتظامات کرنے کی ہدایت دی ۔ ضلع میں پائلٹ پراجکٹ کے طورپر کولچارام منڈل مرکز کے ساتھ حویلی گھن پور کے شمناپور کے سرکاری کیمپس میں انجذابی گڑھوں کی کھدوائی کے لئے افتتاح انجام دینے کو کہا ۔ پہلے طریقہ کار میں پانی کے تحفظ کے لئے 25000 اور انجذابی گڑھوں کے لئے 8000 روپئے لاگت آئے گی ۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکزی اور ریاستی حکومت آپسی تعاون اور متعلقہ محکمہ جات ماہ ستمبر تک جل شکتی مہم کے تحت سرگرمیاں شروع کرتے ہوئے تعمیرات سے متعلق جیوٹاکنگ دستاویزات کو ایپ میں اپ لوڈ کرنے اور تصاویرات کو تیار رکھنے کے لئے کہا اور جنگلاتی علاقوں میں پانی کا تحفظ کرنے والے ذخائر ، چیک ڈیم کی تعمیرات کو انجام دینے کی ڈی ایف او کو ہدایت دی ۔ محکمہ ہارٹیکلچر کو فارم تالاب تیار کرنے کو کہا گیا ۔ پانی کے تحفظ کے ایک حصہ کے طورپر محکمہ پنچایت راج کے تحت 2156 تالاب کھودے جارہے ہیں ۔ پانی کے تحفظ کے ایک حصہ کے طورپر محکمہ پنچایت راج کے تحت 2156 تالاب کھودے جارہے ہیں اور اس کے ساتھ 15 چیک ڈیم بنائے جارہے ہیں اور کالیشورام نہر بھی زیرتعمیر ہے ۔ اسی طرح بارش کے پانی کا تحفظ کرتے ہوئے زیرزمین پانی کے سطح کی مقدار کو بڑھانے کے مقصد سے چیک ڈیم ، انجذابی گڑھوں کی تعمیر انجام دیتے ہوئے نالوں میں موجود کچرا کوڑا کو نکالنے کی ہدایت دی ۔ اس اجلاس میں ڈی آر ڈی او سرینواس ، ضلع پریشد سی ای او شیلیش ، ڈی ایف او گینشور ضلعی عہدیدار برائے زراعت پرشورام نائیک میونسپل کمشنر اور دیگر نے شرکت کی ۔