بازار گھاٹ کے رہائشی اپارٹمنٹ میں آتشزدگی ‘9 افراد ہلاک

,

   

کامپلکس میں تجارتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ تعمیراتی قواعد کی بھی خلاف ورزی ( بسلسلہ صفحہ اول )

اپارٹمنٹ کے سیلر میںغیر قانونی طور پر اسٹاک کئے گئے بھاری تعداد میں موجود کمیکل اور ڈیزل ہونے کے نتیجہ میں آگ نے کچھ ہی منٹوں میں اپارٹمنٹ کو لپیٹ میں لے لیا اور رہائشی علاقہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا ۔ ڈی آر ایف ٹیموں نے عمارت میں پھنسے ہوئے 21 افراد کو کامیاب طور پر بڑی سیڑھیوں کے ذریعہ انہیں باہر نکالا اور زخمیوں کو دواخانہ منتقل کیا ۔ اس واقعہ کی اطلاع ملنے پر فائر سروسیس کے ڈائرکٹر جنرل وائی ناگی ریڈی اور ڈیزاسسٹر رسپانس فورس کے ڈائرکٹر وائی پرکاش ریڈی اور ڈپٹی کمشنر پولیس سنٹرل زون وینکٹیشولو جائے حادثہ پر ہی پہنچ گئے ۔ آگ پر قابو پانے کیلئے گولی گوڑہ ، جوبلی ہلز، سالار جنگ میوزیم ، سکریٹریٹ ، یاقوت پورہ اور سکریٹریٹ فائر اسٹیشنوں سے وابستہ فائر انجن اور برونٹو اسکائی لفٹ کو طلب کیا گیا تھا ۔ چار گھنٹوں کی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا ۔ محکمہ فائر اور پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ اپارٹمنٹ کا سیلر جسے پارکنگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے وہاں پر غیرقانونی طور پر کمیکل اور ڈیزل رکھا گیا تھا ۔اپارٹمنٹ میں آگ لگنے کے بعد بازار گھاٹ کے مقامی افراد خوفزدہ ہوگئے اور اپنے طور پر بورنگ کے پانی کے ذریعہ آگ کو بجھانے کی کوشش کی ۔اتنا ہی نہیں مقامی عوام کی جانب سے اس حادثہ کو مزید بڑھنے سے روکنے کیلئے کمیکل ڈرمس اور ڈیزل کینس کو اپارٹمنٹ سے باہر نکالا گیا ۔ اتنا ہی نہیں عوام میں گہما گہمی بھی دیکھی گئی اور اس حادثہ کو دیکھنے کیلئے جمع ہونے والے افراد منتشر کرنے کیلئے پولیس فورس کو بھی طلب کرلیا گیا تھا ۔ اپارٹمنٹ کے پاس پارک کی ہوئی کاریں اور موٹر سیکلیں بھی جل کر خاکستر ہوگئی ۔ عمارت کی تعمیر کے دوران بھی بلڈنگ سیٹ بیک قوانین کی خلاف ورزی کی گئی تھی اور اپارٹمنٹ کے اطراف و اکناف جگہ میں بھی کمیکل اور ڈیزل رکھے گئے تھے ۔ اس واقعہ میں چند ہی منٹوں میں بھاری دھواں اپارٹمنٹ کے فلیٹس میں داخل ہوگیا اور ان فلیٹس میں مقیم افراد کو وہاں سے بچ نکلنے کا موقع نہیں ملا اور دم گھٹنے کے نتیجہ میں ہلاک ہوگئے ۔ تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پانچ منزلہ عمارت میں فائر سیفٹی کے احتیاطی تدابیر موجود نہیں تھے اور بالاجی ریسیڈنس اپارٹمنٹس میں جملہ 16فلیٹس موجود ہیں اور ان میں کرایہ دار مقیم ہیں ۔