باپو کے نام پر بلڈوزر راج حکومت پر داسوجو شراون کا الزام

   

راہول گاندھی کو کھلا مکتوب ، غریبوں کے مکانات کے لیے مداخلت کرنے کی اپیل
حیدرآباد ۔ 26 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ایم ایل سی داسوجو شراون نے کہا کہ باپو کے نام پر بلڈوزر چلانا گاندھی ازم بلکہ ظالمانہ طرز حکمرانی کی علامت ہے ۔ راہول گاندھی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے غریب عوام کے مکانات منہدم ہونے سے بچانے کی اپیل کی ہے ۔ داسوجو شراون نے الزام لگایا کہ تقریبا 5000 کروڑ روپئے کی لاگت سے مجسمہ تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی دراصل کارپوریٹ مفادات کو فائدہ پہونچانے کی سازش ہے ۔ گاندھی جی سے عقیدت کے نام پر بڑے صنعتی گھرانوں کو اراضی دینے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ جو سرکار کسانوں کے قرض معافی جیسے وعدے پورے نہیں کرپارہی ہے ۔ مگر وہ ہزاروں کروڑ روپئے مجسمہ پر خرچ کررہی ہے ۔ عوامی مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے نمائشی منصوبوں پر سرمایہ خرچ کرنا ، عوام کے ساتھ نا انصافی ہے ۔ داسوجو شراون نے یہ بھی کہا کہ بی آر امبیڈکر کے مجسمے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے ۔ جب کہ نئے مجسموں کے نام پر کمیشن خوری کی راہ ہموار کی جارہی ہے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ تشار گاندھی نے بھی اس معاملے پر اعتراض کیا ہے ۔ مگر ریاستی حکومت آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے ۔ داسوجو شراون نے راہول گاندھی سے مطالبہ کیا کہ وہ تلنگانہ میں اپنے اصولوں کے مطابق مداخلت کریں اور لائسنس یافتہ تشدد کو روکیں ۔ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے نام پر اراضیات پر قبضہ کرنے کے ساتھ غریب عوام کو گھروں سے محروم کیا جارہا ہے۔ اس منصوبے کا اصل مقصد جائیداد کے منافع کو سمیٹنا ہے ۔۔ 2