کرایہ اور اخراجات ناقابل برداشت ، لاک ڈاؤن کا منفی اثر
حیدرآباد۔ شہر حیدرآباد میں بجٹ اسکول بند ہونے لگے ہیں اور اسکولوں کو فروخت کیا جا رہا ہے ۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ نواحی علاقوں میں چلائے جانے والے تعلیمی اداروں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہوچکی ہے اور کئی اسکول اب فروخت کیلئے تیار ہیں کیونکہ جو اسکول کرایہ کی عمارتوں میں چلائے جاتے ہیں ان اسکول کے انتظامیہ کے پاس عمارتوں کا کرایہ ادا کرنے کیلئے بھی رقم موجود نہیں ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں لاک ڈاؤن کے بعد سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کا شدید منفی اثر شعبہ تعلیم پر دیکھا جانے لگا ہے کیونکہ بجٹ خانگی اسکول جہاں متوسط اور غریب بچے تعلیم حاصل کیا کرتے تھے وہ نہ ہی آن لائن کلاسس چلانے کے موقف میں ہیں اور نہ ہی انہیں فیس کے بقایاجات وصول ہورہے ہیں اسی لئے کئی ایسے اسکول جو کہ 500تا1000 طلبہ تعلیم حاصل کیا کرتے تھے ایسے اسکول انتظامیہ معاشی مشکلات کا شکار ہوتے ہوئے اب اسکول کو بند کرنے اور فروخت کرنے کے سلسلہ میں غور کر نے لگے ہیںکیونکہ ان حالات میں ان کے پاس عمارتو ںکا کرایہ ادا کرنے کے علاوہ دیگر اخراجات کی تکمیل کیلئے بھی بجٹ موجود نہیں ہے اور مستقبل قریب میں حالات کے معمول پر آنے کی کوئی توقع بھی نہیں ہے کیونکہ اسکول فی الحال آن لائن چلائے جا رہے ہیں اور جب کبھی باضابطہ اسکول چلائے جائیں گے اس وقت بھی اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کی جانب سے فوری بچوں کو اسکول روانہ کئے جانے کے امکانات کم ہیں علاوہ ازیں جب باضابطہ اسکولوں کا آغاز کیا جائے گا تو اسکولوں میں نئے رہنمایانہ خطوط کے مطابق اضافی جگہ درکار ہوگی اور صفائی کے امور پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ ساتھ سماجی فاصلہ کی برقراری لازمی ہوگی جس کے سبب اسکول انتظامیہ پر اضافی مالی بوجھ عائد ہوگا لیکن اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کی جانب سے اضافی فیس ادا کئے جانے کے کوئی آثار نہیں ہیں اسی لئے بجٹ اسکولوں کی جانب سے اسکولوں کو بند کرنے کے علاوہ انہیں فروخت کرنے کے سلسلہ میں غور کیا جانے لگا ہے ۔ریاست تلنگانہ میں خانگی اسکولوں میں کارپورٹ ‘ نیم کارپوریٹ اور بجٹ خانگی اسکول کے تین زمرہ ہیں اور جب کبھی معاشی صورتحال سنگین ہوتی ہے یا محکمہ تعلیم کی جانب سے کسی قسم کی کاروائی کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں بجٹ اسکولوں کو ہی کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس مرتبہ نیم کارپوریٹ اور کارپوریٹ اسکولوں کی حالت بھی انتہائی ابتر ہوچکی ہے۔