بجٹ اسکولس کی مسلمہ حیثیت میں توسیع ، برقی و آبرسانی و جائیداد ٹیکس کو معاف کرنے پر زور

   


لاک ڈاؤن سے اسکولس معاشی ابتری کا شکار ، بجٹ اسکولس مینجمنٹ تنظیموں کی حکومت کو درخواست
حیدرآباد۔ حکومت تلنگانہ ریاست میں بجٹ اسکولوں کی مسلمہ حیثیت کیلئے از سر نو درخواست داخل کرنے کے بجائے بجٹ اسکولوں کی موجودہ مسلمہ حیثیت کو آئندہ تین سال تک توسیع دینے کے اقدامات کے ساتھ تعلیمی اداروں کے برقی بلوں کے علاوہ آبرسانی بلوں اور جائیداد ٹیکس کی معافی کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنائے کیونکہ مکمل تعلیمی سال کے دوران بجٹ اسکولوں کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ریاستی حکومت کی جانب سے مختلف شعبہ جات کو مراعات کی فراہمی عمل میں لاتے ہوئے انہیں بہترسہولتیں فراہم کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں اور کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران ہونے والے نقصانات کی پابجائی کے منصوبہ تیار کئے جا رہے ہیں اگر ریاستی حکومت کی جانب سے تلنگانہ کے بجٹ اسکولوں پر عائد کئے جانے والے ٹیکس ‘ مسلمہ حیثیت کے لئے درخواست کی شرط اور برقی و آبرسانی بلوں میں مراعات دیئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں حکومت کی جانب سے بجٹ اسکولوں کی بڑی مدد ہوگی جو کہ ریاست میں خواندگی کے اضافہ میں اپنا کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔دونوں شہر وں حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ تلنگانہ کے دیگر اضلاع میں چلائے جانے والے بجٹ اسکولوں کے ذمہ دار معاشی بدحالی کا شکار ہوچکے ہیں اور ان کی معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنے کیلئے اسکولوں کی کشادگی اور مراعات کی فراہمی ناگزیر ہے۔بجٹ اسکولوں کے ذمہ داروں کی تنظیم کی جانب سے ریاستی وزیر تعلیم کے علاوہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور متعلقہ محکمہ کے عہدیداروں کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ان سے نمائندگی کی گئی ہے کہ وہ ریاست تلنگانہ میں چلائے جانے والے بجٹ اسکولوں کی مدد کیلئے اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ یہ اسکولس مستقبل میں بندہونے کے بجائے ریاست کی خواندگی میں اضافہ کے اپنے کردار کو جاری رکھ سکیں۔بجٹ اسکولوں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ ریاست کے 60 فیصد سے زائد طلبہ بجٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ 15 فیصد طلبہ کارپوریٹ اور معیاری خانگی اسکولو ں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اس کے علاوہ مابقی طلبہ سرکاری و اقامتی اسکولوںمیں ہونے والی تعلیم کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔