نئی دہلی : کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے مرکزی بجٹ کو آج شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ تو آبادی کے محض 1 فیصد حصہ کیلئے ہے اور ڈیفنس الاٹمنٹ میں قابل لحاظ اضافہ نہ کرتے ہوئے چین کو غلط پیام دیا گیا ہے۔ راہول نے دہلی میں پریس کانفرنس منعقد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے حالات خطرناک ہوگئے ہیں جو وزیراعظم نریندر مودی کی عاجلانہ کارروائی کے متقاضی ہے۔ مودی پر سخت نکتہ چینی میں سابق صدر کانگریس نے الزام عائد کیا کہ ملک میں قیادت دکھائی نہیں دیتی۔ حالات کا تقاضہ ہیکہ وزیراعظم فوری عوام کے ہاتھوں میں رقم پہنچانے کے جتن کریں اور معیشت کو بحالی کی طرف لے جائیں۔ ان کی ذمہ داری ہیکہ وہ چھوٹے اور اوسط درجہ کے کاروبار کا تحفظ کرے جن سے ہمیں زیادہ سے زیادہ روزگار حاصل ہوتا ہے۔ یہ بات بھی ضروری ہیکہ چین کو دوٹوک پیام دیا جائے کہ ہمارے ساتھ اس طرح کی حرکتیں نہیں کی جاسکتی اور تم ہماری سرزمین کے داخلی حصہ میں نہیں بیٹھ سکتے اور اگر ایسا کرتے ہیں تو توقع مت رکھیں کہ تمہارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا۔
’’کسانوں کیساتھ غیررسمی بات چیت نہیں ہورہی ‘‘
نئی دہلی : وزیرزراعت نریندر سنگھ تومر نے چہارشنبہ کو کہا کہ مرکز احتجاجی کسانوں کے ساتھ کوئی غیررسمی بات چیت نہیں کررہا ہے اور مزید رکاوٹیں کھڑی کرنے نیز ایجی ٹیشن کے مقامات کے پاس انٹرنیٹ معطل کئے جانے کو انہوں نے متعلقہ نظم و نسق کا لا اینڈ آرڈر معاملہ قرار دیا۔ اب تک کسانوں اور حکومت کے درمیان بات چیت کے 11 راونڈ ناکام ہوچکے ہیں۔