بحیرہ احمر میں ایک ڈرون مار گرانےدو امریکی عہدیداروں کا انکشاف

   

نیویارک: دو امریکی عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی بحریہ کے جنگی جہاز نے بحیرہ احمر میں ایک ڈرون کو مار گرایا جو یمن سے لانچ کیا گیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ امریکہ نے حماس اور اسرائیل کی لڑائی کے بعد اپنے جنگی جہازوں کے قریب پراجیکٹائل گرائے ہیں۔دونوں عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی تباہ کن امریکی جنگجو ارلی برک کلاس کے تھامس ہڈنر نے مقامی وقت کے مطابق چہارشنبہ کی صبح ڈرون کو مار گرایا۔ دونوں عہدیداروں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ڈرون مسلح تھا یا نہیں اور مار گرائے جانے سے قبل وہ جہاز کے کتنے قریب آگیا تھا۔گذشتہ جمعرات کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے یمن سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائل کو روک دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے بھی اسی دن تصدیق کی کہ جنوبی اسرائیل کے شہر ایلات میں ایک نامعلوم ڈرون ایک ایلیمنٹری سکول سے ٹکرا گیا جس سے مادی نقصان ہوا۔ حوثیوں نے اسی دن اعلان کیا تھا کہ انہوں نے جنوبی اسرائیل کی طرف متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
حوثیوں نے گزشتہ ماہ کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ انہوں نے غزہ میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے جواب میں اسرائیل کی طرف ڈرون فائر کرنا شروع کئے ہیں۔ حوثی ترجمان یحییٰ ساری نے 2 نومبر کو اپنے “ایکس” اکاؤنٹ پر کہا تھا کہ ہم اسرائیل کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بناتے رہیں گے جب تک کہ غزہ پر اسرائیلی حملہ بند نہیں ہو جاتا۔